منوی اصلی

Urdu

مناجات شاکین
مناجات خمس عشر

مناجات شاکین

منـــاجـــــات خــــمس عــــشـر
(مناجات شاکین) 

استاد: آیت اللہ حسن رمضانی

تدوین:سید محمد حسن رضوی 

 

إِلَهِي إِلَيْكَ أَشْكُو نَفْساً بِالسُّوءِ أَمَّارَةً وَإِلَى الْخَطِيئَةِ مُبَادِرَةً، وَبِمَعَاصِيكَ مُولَعَةً، وَلِسَخَطِكَ مُتَعَرِّضَةً . (مناجاة الشاكن، كتاب: زاد المعاد، مجلسى، ص ۴۰۷)


شیخ صدوق نے نقل کیا ہے کہ امام علیؑ فرماتے ہیں: مَا جَفَّتِ الدُّمُوعُ إِلَّا لِقَسْوَةِ الْقُلُوبِ وَمَا قَسَتِ الْقُلُوبُ إِلَّا لِكَثْرَةِ الذُّنُوبِ: آنسو خشک نہیں ہوتے سوائے دلوں کی قساوت کے اور دل سنگدل و قسی نہیں ہوتے سوائے کثرتِ گناہوں کے۔ (صدوق، علل الشرائع، ج ۱، ص ۸۱ ، حدیث ۱) جو شخص سنگدلی کا شکار ہو اس کے آنسو بہنا رک جاتے ہیں اور وہ بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔پھر وہ کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا۔ دلوں کی بے حسی اور سختی و سنگدلی کی بنیادی وجہ کثرتِ گناہ ہیں۔ انسان جب  گناہ پر گناہ کرتا تو یہ گناہ اس کے دل کو سختی و سنگدلی کا شکار کر دیتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو اپنی تخریب کاری اور گناہوں پر فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ فرق نہیں پڑتا انسان کے گناہوں کا تعلق حقوقِ الٰہی یعنی شرعی و دینی وظائف و فرائض سے ہو یا لوگوں اور عوام کے حقوق سے ہے اسے اپنے جرم اور گناہ کی تلافی کے لیے فورا توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔ 

    اگر کوئی اپنے گناہوں پر فوراً توبہ و استغفار نہ کرے اور گناہوں پر گناہ کرتا چلا جائے تو دل آہستہ آہستہ قبول کرنے کی حالت کھو دیتا ہ  اور گناہوں کے بار گراں سے بھاری سے بھاری ہوتا جاتا ہے۔ لہٰذا روایت میں وارد ہوا ہے:خوشا باحال ہیں وہ لوگ جو ہر گناہ کے ساتھ ایک استغفار اور ایک حقیقی توبہ کرتے ہیں ۔ضروری ہے کہ انسان  حقیقی معنی میں پشیمان ہو۔ مذاق اور تمسخر والی توبہ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر اس نے حقوق میں سے کوئی حق چھوڑا  ہے یا تو اس کی تلافی کرے۔ اگر اس نے کسی پر ظلم کیا ہے خدانخواستہ کسی کی غیبت کی ہے تو اس سے معافی مانگ کر اسے راضی کرے اور اپنی اصلاح کرے۔ ایسا نہ ہو کہ گذشتہ گناہ کی تلافی نہیں ہوئی اور اس نے فوراً دوسرا گناہ کر انجام دے دیا !! اس طرح پچھلے گناہ میں اضافہ ہو جاتا چلا جائے گا اور دو کے بعد تین اور اس طرح گناہوں کا ڈھیر اکٹھا ہو جائے گا۔ مسلسل گناہ حقیقت میں انسانی دل کی قساوت کا باعث بنتے ہیں۔لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کی سنت کے مطابق ہر روز کم از کم ۷۰ بار استغفار کریں۔فضاء اخلاقی و سیر و سلوک میں دستور اخلاقی کے طور پر ۷۰ بار استغفار کرنا تعلیم دیا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں: إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ بِالنَّهَارِ سَبْعِينَ مَرَّةً، یقیناً میرے دل پر کبھی ہلکا سا غبار چھا جاتا ہے ، لہٰذا میں دن میں ستر مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ (مجلسی، بحار الانوار، ج ۲۵، ص ۲۰۴) لفظ يُغَانُ کا معنی دل پر ہلکی سی پردہ پوشی یا غبار آ جانے کے ہیں جس کی وجہ گناہ کا صادر ہونا نہیں ہے بلکہ یہ توجہ کے ادنیٰ درجے کی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ لہٰذا  رسولِ اکرم ﷺ کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے تاکہ مقامِ قرب اور کمالِ حضور برقرار رہے۔

توبہ کی چھ شرائط :

 امام علیؑ سے نہج البلاغہ میں وارد ہوا ہے کہ ایک کہنے والے نے آپؑ کے سامنے ’’استغفراللہ‘‘ کہا تو آپؑ نے اس سے فرمایا:تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے! کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیا ہے؟ استغفار بلند منزلت لوگوں کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے:۱۔ پہلے یہ کہ جو ہو چکا اس پر نادم ہو، ۲۔ دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کا تہیہ کرنا، ۳۔ تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اور تم پر کوئی مواخذہ نہ ہو، ۴۔ چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے اور تم نے انہیں ضائع کر دیا تھا انہیں اب پورے طور پر بجا لاؤ، ۵۔ پانچویں یہ کہ جو گوشت (اَکل) حرام سے نشو و نما پاتا رہا ہے اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤ یہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملادو کہ پھر سے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو، ۶۔ چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے۔ تو اب کہو: ’’استغفراللہ‘‘۔ (نہج البلاغہ، ص ۵۴۹، حکمت قصار: ۴۱۷)
 

کلامِ امام علیؑ کی وضاحت:

    امیر المؤمنینؑ کی بیان کردہ چھ شرائط میں سے پہلی دو شرطیں قوام و تشکیل توبہ کی شرائط ہیں، تیسری اور چوتھی شرط قبولیت ِتوبہ کی شرائط ہیں اور آخری دو شرائط کمالِ توبہ و استغفار کی شرط ہیں۔

پہلی شرط:

    امام علیؑ نے توبہ کی چھ شرائط میں سے پہلی شرط دل کی گہرائی سے حقیقی پشیمانی کا ہونا بیان فرمایا ہے۔ حقیقی ندامت میں مبتلا ہو تو اس طرح کے احساسات جنم لیتے ہیں کہ ہم سے کیا غلطی ہو گئی !! یہ ہم سے کیسا کام ہو گیا؟! انسان کا اندر سے ندامت اور پشیمانی میں مبتلا ہونا ضروری ہے۔ 


دوسری شرط:

    امام علیؑ نے دوسری شرط ترک کرنے کا عزم بالجزم بیان فرمائی ہے۔ جو شخص اپنے کیے پر واقعی پشیمان ہوتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کام کو دوبارہ نہ کرنے کا مصمم ارادہ اور فیصلہ کرے۔ اگر ترکِ گناہ کا محکم عزم نہیں کیا اور اس سے وہ عمل دوبارہ سرزد ہو جائے تو اس کا مطلب ہے وہ حقیقی معنی میں گناہ سے پشیمان نہیں ہوا تھا۔ پہلی دو شرطیں علماءِ اخلاق کی نظر میں قوامِ توبہ و استغفار ہے۔ قوام سے مراد ایک حقیقت و ماہیت کو تشکیل دینے والے اجزاء ہے، جیسے انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انسان حیوان ناطق ہے۔ حیوانیت جنس اور ناطقیت فصل ہے جس نے ماہیت ِانسان کو قوام دیا ہے۔ اسی طرح توبہ اور استغفار بغیر پشیمانی اور گناہ کو ترک کرنے کے عزم کے بغیر قوام نہیں پاتا۔ 


تیسری شرط:

    کلامِ امیر المؤمنینؑ میں تیسری شرط الٰہی حقوق کی تلافی ہے۔ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کا عائد کردہ حق ترک کر دے، مثلاً نمازو روزہ کا بجا لانا یا دیگر شرعی تکالیف کو بجالانا ترک کر دے تو اس گناہ سے توبہ اس وقت کہلائے گی جب وہ ان کا جبران اور تلافی کرے اور تمام وظائف ادا کرے۔ 


چوتھی شرط:

    امام علیؑ کے کلام میں چوتھی شرط عوام اور لوگوں کے حقوق کو ادا کر کے تلافی کرنا ہے۔ اگر کسی کی حق تلفی کی ہے تو توبہ اسی وقت کہلائے گی جب وہ حق ادا کر دیا جائے۔ علماءِ اخلاق کے مطابق یہ دو شرائط توبہ کی قبولیت کی شرائط ہیں۔ جس کی گردن پرالہٰی حقوق یا لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا بار موجود ہو اس کی توبہ ِبارگاہ الہٰی میں قبول نہیں ہوتی۔ 


پانچویں شرط:

    کلامِ امامؑ میں پانچویں شرط لذتِ گناہ کی تاثیر کو مٹانا ہے۔ گناہگار نفس کو گناہ کی انجام دہی سے جو لذت و لطف حاصل ہوا ہے اسے اس چاہیے کہ اس کا ازالہ اطاعت کی سختی ، زحمت اور مشقت سے کرے۔ اطاعت و عبادت میں انسان کے لیے زحمت ،تکلیف اور مشقت ہے۔ پس ضروری ہے کہ جس طرح معصیت کار نے جس طرح گناہ کی لذت چکھی ہے ویسے ہی وہ اطاعت کی سختی بھی چکھے۔ 


چھٹی شرط:

 کلامِ امامؑ میں آخری شرط نوعیت ِاطات سے متعلق ہے کہ معصیت کار کی معصیت سے جو گوشت پوست اس کے بدن پر چڑھ گیا ہے وہ اطاعت کر کر کے اس کو اس طرح پگھلائے کہ اس کی جگہ نیا اور تازہ گوشت آ جائے۔بالفاظِ دیگر اس قدر اطاعت الہٰی کی زحمت اٹھائے کہ اس نے اپنے جسم کے جن خلیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی اور جن خلیوں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ نافرمانی انجام پائی تھی وہ سب فاسد خلیے چلے جائیں اور ان کی جگہ پر نئے خلیے آ جائیں۔کہا جاتا ہے کہ ہر 6 سال میں انسانی جسم کے تمام خلیےبدل جاتے ہیں۔ اگر اس تحقیق سے استفادہ کریں تو کہہ سکتے ہین کہ حقیقی توبہ کے لیے انسان مسلسل 6 سال اطاعت ِالہٰی انجام دیتا رہے اور گناہ و معصیت سے اس تمام عرصہ کاملا اجتناب کرے۔ اگر ۶ سال گناہ سے اپنی حفاظت کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بجا لائی تو آلودہ تمام خلیوں سے انسان نجات پا لے گا۔ لیکن خدانخواستہ اگر اس نے دوبارہ گناہ کر دیا تو پھر اس کے جسمانی خلیے آلودہ ہو جائیں گے جو حقیقی توبہ کےدوبارہ سے محتاج ہوں گے۔


تلاوتِ قرآن ، قراءتِ روایات اور ذکر ِاہل بیتؑ کی تاثیر اینٹوں، پتھر و پلستر کے ٹکڑوں اور جو جو چیزیں اس عمارت کی ہیں سب پر رونما ہوتی ہے۔ یہ سب چیزیں الٰہی آیات سے متاثر ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر خدانخواستہ کسی جگہ کوئی گناہ و معصیت یا لہو و لعب انجام پاتا ہے اس قباحت و فساد سے تمام چیزیں آلودہ ہوتی ہیں۔ علامہ طباطبائیؒ کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ہر سال ایک خاص جگہ منعقد ہونے والی مجلس امام حسینؑ میں حاضر ہوتے تھے۔ مرحوم علامہ طباطبائیؒ ایک دن مجلس کے لیے تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ مکان میں نئی تعمیرات ہوئی ہیں اور نیا حصہ بننے کی وجہ سے اس نئے حصہ میں پہلی والی نمی محسوس نہیں ہو رہی۔آپ اس نئے تعمیرات والے حصہ سے اٹھے اور پرانی تعمیرات والے حصہ میں آئے گے جو اپنی پرانی حالت میں موجود تھا اور وہاں بیٹھ گئے۔ میزبانِ مجلس نے جگہ بدلنے کی وجہ دریافت کی تو علامہؒ نے بیان کیا کہ یہاں ہمیشہ حسین بن علیؑ کی مصیبت کا ذکر ہوتا رہا ہے جس کی آوازوں پھیلنے کی وجہ سے در و دیوار اور یہ جگہ بابرکت ہو گئی ہے۔ اس ذکرِ امام حسینؑ کی خاصیت و اثر اس پرانی جگہ پر اب بھی موجود ہے۔ یہ نئی تعمیرات، سیمنٹ وغیرہ ویسی تاثیر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ انسان ان پتھر اور سیمنٹ وغیرہ سے زیادہ بابرکت ہے جو برسوں حسین بن علیؑ کا ذکر اور ان کی مصیبت سنتا رہا ہے۔ ہمارے جسم کے یہ خلیے بھی اسی طرح ہیں۔ آپ نے ان جسمانی خلیوں کے ساتھ جو قرآن کی قرأت کی، ان خلیوں کے ساتھ نیکی کا جو کام انجام دیا ہے وہ ان خلیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح جن خلیوں کے ساتھ جو گناہ اور معصیت انجام پائی ہے اور ہڈیوں پر اس سے گوشت پوست چڑھا ہے اس کی پر گناہ کی تاثیر موجود ہوتی ہے جو اسی وقت زائل ہو سکتی ہے جب وہ گوشت چربی پگھل جائے اور اس کی جگہ نیا اور تازہ گوشت آ جائے تاکہ توبہ کامل ہو جائے۔علماءِ اخلاق کے مطابق آخری شرائط کمالِ توبہ و استغفار کی شرط ہیں۔ ، کمالِ استغفار۔

 

گناہ سے بچاؤ کا طریقہ مراقبہ:

    مراقبہ انسان کو گناہ سے بچاتا ہے اور توبہ و استغفار انسان کو بہتر بناتے ہیں۔ ندامت اور پچھتاوے سے انسان میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو ترکِ گناہ کے عزم سے حقیقی معنی میں جنم لیتی ہے۔ اگر اندر سے گناہ کی چاہت باقی ہو تو یہ استغفار و توبہ نہیں ہے کیونکہ دل ابھی بھی گناہ کی چاہت میں مبتلا ہے جس کا نفس پر گہرا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ خصوصاً یہ معاملہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب گناہ پر گناہ انجام پاتا ہے جوکہ دل کو سیاہ اور قلب کو بھاری کر دیتا ہے۔ گناہ کے شر سے خود کو حقیقی استغفار کے ساتھ نجات دینا چاہیے۔ مراقبہ محافظ ہے جبکہ توبہ و استغفار معالج و طبیب ہے۔ آفت ِگناہ سے بچانے کا کام مراقبہ کرتا ہے جبکہ استغفار علاج کے حکم میں آتا ہے۔ مراقبہ انسان کو صحیح سالم رکھتا ہے جو اگر مرضِ گناہ سے آلودہ ہو جائے تو توبہ اور استغفار اس کا علاج قرار پاتے ہیں۔ 

خوش نصیب لوگ:

    خوش نصیب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ علاج پر نہیں چھوڑا بلکہ انہوں نے مرض اور بیماری کی روک تھام کی۔ اگر انسان واقعی تندرست و سالم ہو اور اپنی صحت کا خیال رکھے اور بیماری یا آفت نہ آنے دے تو وہ دوا، علاج، طبیبوں کے چکر کاٹنے اور آپریشن و جراحی وغیرہ کی اذیت سے بچ جائے گا ، مثلاً اگر کسی کے دانت خراب ہو گئے تو وہ کیسی کیسی اذیتوں کو اٹھاتا ہے اور دندان ساز کے پاس جا جا کر اپنا علاج کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ شخص جوہر رات مسواک کرتا ہے، منہ اور دانتوں کی حفاظت کرتا ہے تو ان تمام دردوں تکلیفوں اور معالجہ کی اذیتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ علاج میں محنت کے ساتھ تکلیف، مشقت اور زحمت ہے جبکہ اپنی حفاظت میں نعمت ِصحت اور تندرستی ہے۔ نفس کے بچاؤ کو مراقبہ کہتے ہیں اور نفس کے علاج کو توبہ و استغفار ان شرائط کے ساتھ جو نہج البلاغہ میں امیر المؤمنینؑ نے رہنمائی فرمائے ہیں۔ 

مومن عہد کا پابند

    ہمیں امام علیؑ کے اس فرمان کو سنجیدہ لینا چاہیے: دل کی قساوت گناہ کی کثرت کی وجہ سے ہے۔ ترکِ گناہ کا عزم اور اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان انسانی نفس کو صحت سے ہمکنار کر دیتا ہے۔ لہٰذا جو شخص عہد کرتا ہے اور شرط باندھتا ہے اور اس کے بعد اپنے عہد و شرط کی پابندی کرتا ہے وہی مومن کہلاتا ہے کیونکہ المؤمنون عند شروطهم ، مومنین اپنی شروط کی پابندی سے رعایت کرتے ہیں اور اپنے عہد و شرط پر قائم رہتے ہیں۔ اس کے برعکس کافر و منافق آتا ہے جو اپنے عہد و پیمان کی رعایت نہیں کرتا جیساکہ سورہ میں عہد و پیمان توڑنے کے وصف کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کفار کی مذمت فرماتا ہے: قَاتِلُوا أَئِمَّةَ الۡكُفرِ إِنّهُم لَا أَيۡمَانَ لَهُم، آئمہ ِکفر کے ساتھ جنگ و قتال کرو کیونکہ ان کا کوئی اَیمان (عہدو پیمان) نہیں ہے۔ (توبہ: ۱۲) کفار پیمان، عہد اور شرط وغیرہ کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے مفادات خطرے میں پڑنے لگتے ہیں تو وہ اپنے عہدو پیمان پر قائم نہیں رہتے۔ عہد و پیمان توڑ دینے والا ہر گز سعادت کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا۔ وہ زمین جو نرم ہوتی ہے اس پر جو عمل انجام دیا جاتا ہے وہ اس میں سرایت کر جاتا ہے، مثلاً وہ زمین فورا بیج کو قبول کر لیتی ہے، پانی بآسانی اس میں سرایت کر جاتا ہے۔ ایسی زمین زرخیز کہلاتی ہے جو طرح طرح ہریالی، پھل پھول اور باغات و فصلوں کی آبادی کا مرکز بن جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ زمین آتی ہے جو سخت، بنجر اور تلخی سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں جو بوئیں وہ اگتا نہیں ہے، پانی اس میں سرایت نہیں کرتا اور کسی قسم کی بھلائی اس زمین سے صادر نہیں ہوتی۔ ایسی زمین پر نہ آیات کا اثر ہوتا ہے اور نہ وعظ و نصیت تاثیر گزار ہوتی ہے۔ انسانی نفوس کی بھی یہی کیفیت ہے۔ قسی و سخت دلوں پر اللہ تعالیٰ کی آیات و اہل بیتؑ کے نورانی کلمات کا اثر نہیں ہوتا ۔ ایسے میں وہ نفس شیاطین کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور کسی قسم کا خیر و برکت کا اس سے صدور نہیں ہوتا۔ یہ منبع شر خود تو ہلاکت سے دوچار ہے دوسروں پر بھی بری تاثیر ڈالتا ہے کیونکہ اس طرح کا نفس تاثیر اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان سے لے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفوس کے شرور سے محفوظ فرمائے۔
 

 
تاریخ انتشار: 1404/12/07      تعداد بازدید: 25
ادامه مطلب
وجود اور کَون کے درمیان فرق
کَون، امر، کَونِ جامع اور اضافہِ اشراقیہ کا معنی

وجود اور کَون کے درمیان فرق

وجود اور کَون کے درمیان فرق

اقتباس از درس فصوص الحکم (فصّ آدمی)
استاد: آیت اللہ حسن رمضانی
تدوین: سید محمد حسن رضوی



۱۔ الوجود
علم عرفان میں وجود کا اطلاق فقط اللہ سبحانہ پر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا وجود وہ حقیقت ہے جس کی ہستی اس کی عین ذات ہے۔ وجود بذاتہ متحق ہوتا ہے۔ حقیقی وجود صرف حق تبارک و تعالیٰ کا ہے، جبکہ دیگر تمام اشیاء مجازی وجودِ رکھتی ہیں یا وجودِِ حق کا پَرتو ہیں۔


۲۔ الکَون :
عرفانی اصطلاح میں کون سے مراد وہ امر ہے جو بذاتِ خود وجود نہیں ہے بلکہ نوِ وجودِ حق کی تجلی سے موجود ہوتا ہے۔ شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی کے مطابق ہر شیء جو وجود کی طرف منسوب ہو اس امرِِ وجودی کو کَون سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں وجود سے مراد حق ہے اور جو وجود کی طرف منسوب ہے وہ کَون ہے۔ کَون کو موجود بھی کہا جاتا ہے، خاص طور پر جب اس کی ماہیت اور تعین کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ پس شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی کے مطابق ہر وہ امر جو وجود کی طرف منسوب ہو اسے کََون کہا جاتا ہے۔



الأمر پر داخل الف لام سے مراد:
لفظِ امر پرداخل ہونے والے الف لام سے دو احتمال مراد لیے جا سکتے ہیں:
  •  یا تو الف لامِ استغراق جس سے مراد تمام الٰہی امور یعنی اسماء، و صفات، اعیانِ ثابتہ اور اعیانِ خارجہ ہیں۔
  • یا پھر یہ الف لام مضاف الیہ کے بدلے میں ہے۔ 


امر کے تین معانی:

امر کے تین ممکنہ معنی بیان کیے گئے ہیں:
۱) امر بمعنی فعل: یہ اللہ تعالیٰ کے تمام افعال۔
۲) امر بمعنی شأن: یہ معني فعل سے اعمّ تر ہے، کیونکہ اس میں فعل کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی صفات جیسے رحمت، غضب، سخاوت بھی شامل ہے۔
۳) امر بمعنی کُن یعنی ہو جانا: اس سے مراد وہ تمام موجودات ہیں جو اللہ کے حکمِ کُن سے وجود میں آئے ہیں۔

 

انسانِ کامل بطورِ کَونِ جامع

عرفان میں انسانِ کامل کو اسمِ آدم سے موسوم کیا جاتا ہے۔ انسانِ کامل یا آدم وہ حقیقت ہے جو تمام اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء اور کمالات کو اپنے اندر ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بقیہ تمام موجودات کے کمالات محدود اور مخصوص ہیں، مثلاً کسی کا فلسفی یا شاعر ہونا۔ البتہ انسانِ کامل تمام حدود سے مبرّا ہو کر ہر صفت کا مظہر بن سکتا ہے۔


مشیتِ الٰہی اور تخلیق کا راز
اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور کمالات کا مشاہدہ اپنی اوّلیت اور باطنیت کے مرتبہ پر کرتا ہے جہاں سب کچھ ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہیں۔ حق تعالیٰ کی مشیت اس امر کے متعلق ہوئی کہ وہ اپنے کمالات کا مشاہدہ اپنی آخریت اور ظاہریت کے مرتبہ پر بھی کرے جس سے مقصد اول و آخر اور ظاہر و باطن میں مطابقت پیدا کرنا تھأ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے کونِ جامع یعنی انسانِ کامل کو اس امر کی تکمیل کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے۔ کَونِ جامع اللہ تعالی کے تمام ذوات، افعال اور صفات میں فنا ہے۔ اسی طرح تمام وجودات اسی ایک وجودِِ حقیقی کے جلوے ہیں۔ 

عرفانی قاعدہ: البدایات تشابه النهایات 
علم عرفان کا کلی قاعدہ البِدَایَاتُ تُشَابِہُ النِّھَایَاتِ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آغازانجام کے مشابہ ہوتا ہے، مثلاً ایک بیج سے گندم کا پودا بنتا ہے جس کے آخر میں پھر ویسا ہی بیج حاصل ہوتا ہے، اسی طرح آفرینشِ و خلقتِ عالَم قوسِِ نزول سے شروع ہو کرقوسِِ صعود کے ذریعے واپس اپنی اصل یعنی اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے۔

الاضافہ الاشراقیہ 
کَون اور وجود کے درمیان موجود نسبت فرضی یا اعتباری نسبت نہیں ہے بلکہ حقیقی نسبت ہے جسے اضافہِ اشراقیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 


اسماءِ ذاتیہ اور شؤونِ الہٰی
حق تعالیٰ کی صفات جیسے رحمت، غضب، جود اور سخا وغیرہ کو شؤونِ الہٰی کہتے ہیں۔ شؤون سے مراد مختلف افعال و خصوصیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام کلماتِ وجودی کے ساتھ الگ الگ شؤون قرار دئیے ہیں لیکن انسانِ کامل میں اپنے تمام شؤون یکجا کر دیئے ہیں۔۔

تخلیق عالم اور مشیتِ الہٰی کا راز
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور کمالات کا مشاہدہ اپنی ذات میں اوّلیّت اور باطنیّت کے مرتبہ میں کیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ وہ ان کمالات کا مشاہدہ آخریّت اور ظاہریّت کے مرتبہ میں بھی کرے تاکہ اول کو آخر اور ظاہر کو باطن کے مطابقت دے دے اور یہی تمام کائنات کی تخلیقِ اور مشیتِ الٰہی کا راز ہے۔
تاریخ انتشار: 1404/11/29      تعداد بازدید: 21
ادامه مطلب
سالک کے لیے معراجِ ترکیبی اور معراجِ تحلیلی
رساله سیر و سلوک بحر العلوم

سالک کے لیے معراجِ ترکیبی اور معراجِ تحلیلی

رســالـــــه سیــــر و ســـلــــــوک 

استاد: آیت اللہ حسن رمضانی

تدوین:سید محمد حسن رضوی 

 

انسان کا اس دنیا میں آنا دراصل مقامِ ربوبیت سے نزول ہے، تاکہ انسان كے لیے بلند اور اعلی  مقام پر عروج کرنے کے مقدمات فراہم ہو سکیں۔ یہ نزول دراصل ظلمتِ طبیعت سے نکلنے اور خارج ہونے کی لیے ہے۔ سورۂ قصص میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: إِنِّي آنَسْتُ ناراً لَعَلِّي آتيكُمْ مِنْها بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُون، میں نے (کوہِ طور کی جانب) ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے لیے کوئی خبر یا آگ کا کوئی شعلہ لے آؤں تاکہ تم حرارت حاصل کر سکو۔ (قصص: ۲۹) یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان عالمِ طبیعت میں سردی اور تاریکی کا شکار ہے جہاں اسے آگ کی ضرورت ہے۔ آیت کریمہ میں آگ نورِ ہدایت کی علامت ہے جو انسان کو ٹھنڈ اور سردی سے نجات دیتی ہے اور ظلمتوں و اندھیروں میں پھنسے ہوئے انسان کی ظلمت دور کر کے اسے حرارت دیتی ہے یعنی حضورِ حق تک پہنچاتی ہے۔


عروج کی دو قسمیں

انسان کا معراج یعنی عروج کی طرف جانے کو دو طرح سے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
  1. معراجِ ترکیب
  2. معراجِ تحلیل

۱۔ معراجِ ترکیب سے مراد

عرفاء کی نظر میں انسان عالمِ عقول سے عالمِ نفوس، عالم مثال اورعالم مادہ میں نزول کرتا ہے جہاں سے جماد، نبات اور حیوان کے مراحل طے کر کے یہ مرتبہِ انسانیت تک پہنچنتا ہے۔ جماد و نبات و حیوان کے مراحل کو طے کر کے مرتبہِ انسانیت تک پہنچنا معراجِ ترکیب کہلاتا ہے۔ اگرچہ یہ مراحل ظاہراً ایک نوع نزول و ہبوط ہیں لیکن حقیقت میں یہ نزول خود عروج کا مقدمہ اور مقامِ اعلی تک جانے کی راہ کا حصہ ہے۔ درج ذیل وجوہات کی بناء پر انسان کا مراحل طے کر کے انسانیت تک پہنچنا معراجِ ترکیب کہلاتا ہے:

  •  انسان کا نزول اس کے عروج کے لیے ضروری پیش خیمہ ہے۔

  • انسان کی روح دورانِ نزول ہر عالم سے خاص قسم کا اثر قبول کرتی ہے۔

  • تمام عوالم کے خاص اثر کے امتزاج سے آخرکار صورتِ انسان ظاہر ہوتی ہے اور دنیا میں موجود انسان ان تمام عوالم کے آثار کا مرکب مجموعہ بنتا ہے۔

دورانِ نزول عوالم

انسان جن عوالم سے گزرتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

  1. عالمِ عقول

  2. عالمِ نفوس

  3. عالمِ مثال

  4. عالمِ مادہ

معراجِ ترکیب کی مثال خلائی شیٹل بنانے کی سی ہے جس کی تشکیل کے لیے مختلف کانوں سے دھاتیں اور کارخانوں یعنی مختلف عوالم سے پرزے جمع کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں جوڑ کر ایک ایسا وسیلہ تیار کیا جاتا ہے جو زمین کی فضاء سے نکل کر آسمانِ یعنی لقاء اللہ تک پرواز کرتا ہے۔ خلائی شیٹل کی تیاری اگرچہ زمین پر ہوتی ہے لیکن زمین پر اس کے بننے کے مراحل طے کرنا درحقیقت اس کے فضائی سفر کا لازمی جزو ہے۔ انسان سمیت تمام موجوداتِ عالم اللہ سبحانہ کے خزانوں سے معین مقدار اور اندازہ کے مطابق دنیا میں نازل ہوتے ہیں تاکہ ان کا یہ نزول ان کے عروج کا مقدمہ بن سکے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے: ﴿ وَ إِنْ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلاَّ عِنْدَنا خَزائِنُهُ وَ مَا نُنَزِّلُهُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَعْلُوم‏ | کوئی ایسی چیز نہیں ہے مگر اس کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم اسے ایک معلوم مقدار میں نازل کرتے ہیں


انسان کی تخلیق کا مقصد

انسان کے دنیا میں آنے کا اصل مقصد عروج کے اسباب فراہم کرنا ہے، جیسے کوئی شخص چوڑی نہر کو عبور کرنے کے لیے وہیں کھڑے ہو کر چھلانگ نہیں لگا سکتا بلکہ پیچھے ہٹ کر دوڑ لگاتا ہے، اسی طرح انسان کا مقامِ ربوبی سے دنیا میں آنا بھی عروج کے لیے دورخیز ہے۔ پس دنیا میں آنا بذاتِ خود مقصد نہیں، بلکہ اڑان بھرنے کی تیاری ہے۔
اگر یہ نزول، معراجِ تحلیل کے ذریعے مکمل نہ ہو تو بے قیمت رہ جاتا ہے۔ معراجِ ترکیب وہ سفر ہے جو خزائنِ الٰہی سے شروع ہو کر دنیا تک آتا ہے، تاکہ انسان کو اختیاری طور پر حق کی طرف لوٹنے کا میدان مل سکے۔


۲۔ معراجِ تحلیل

معراجِ ترکیب کی تکمیل کے بعد معراجِ تحلیل شروع ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف واپسی کا سفر۔ معراجِ ترکیب میں انسان عالمِ الٰہی سے نزول کرتا ہے اور مادّی عناصر سے مرکب بنتا ہے۔ لیکن معراجِ تحلیل میں سالک تمام قیود، تعلقات اور وابستگیوں کو جو نزول کے دوران حاصل ہوئیں تھیں اپنے آپ سے جدا کرتا ہے۔


مقامِ تبتل

مادی وابستگیاں اور تعلقات کے منتقطع ہونے کو اصطلاح میں تبتُّل کہتے ہیں۔ یہ مقام، فنا اور ملاقاتِ خدا کی سیڑھی ہے۔ معراجِ تحلیل کے مختلف منازل اور مقامات ہیں جس کا آغاز تبتُّّل سے آغاز ہوتا ہے اور اعلیٰ ترین مقامِ فنا پر اختتام ہوتا ہے۔ معراجِ تحلیل کی حقیقی تکمیل موت کے ذریعے ہوتی ہے۔ البتہ یہاں موت سے مراد موتِ طبیعی نہیں ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ یہاں موت سے مراد موتِ اختیاری ہے۔


موتِ اختیاری

روایات میں آیا ہے: ﴿ مُوتُوا قَبْلَ‏ أَن تَمُوتُوا ؛ موت آنے سے پہلے تم مر جاؤ ﴾ (ملا صدرا، شرح اصول الکافی، ج۱، ص ۳۵۹) یہاں موت سے مراد موتِ طبیعی نہیں بلکہ موت اختیاری ہے جوکہ موتِ طبیعی سے پہلے اختیار کی جا سکتی ہے۔ یہ موت نفس کی ظلمت، گناہ اور دنیاوی وابستگیوں سے نکل کر نورِ الٰہی کے دائرے میں داخل ہونے سے عبارت ہے۔


معراجِ تحلیل اور قیامت — اسی دنیا میں

معراجِ تحلیل کے مطابق حقیقی معاد:

  • روح کا دوبارہ جسم میں آنا نہیں
    بلکہ

  • اسی دنیا میں حق کی طرف حقیقی رجوع ہے:

﴿ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں﴾

یہ تصور عام فہم عقیدے سے مختلف ہے جو قیامت کو صرف جسمانی واپسی سمجھتا ہے۔


معراجِ تحلیل اور لقاء اللہ — اسی دنیا میں

جو شخص معراجِ تحلیل کو درست طور پر طے کر لیتا ہے اور موتِ اختیاری حاصل کر لیتا ہے:

  • اسے طبیعی موت کا انتظار نہیں رہتا

  • اس کی قیامت اور لقاء اللہ اسی لمحے، اسی دنیا میں واقع ہو جاتی ہے


معراجِ تحلیل کا آخری ہدف: قشر سے عبور

اکثر انسان صرف بشر کی سطح پر رہ جاتے ہیں، یعنی انسانیت کے خول میں۔
لیکن حقیقی سالک:

  • اس خول سے آگے بڑھتا ہے

  • اور حقیقت کے مغز (لُبّ) تک پہنچتا ہے

ایسے شخص کو لَبیب کہا جاتا ہے —
جو حقیقت کے مغز تک پہنچ کر ہمیشہ کے وصالِ حق میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس مقام پر:

  • ہر سانس ایک عید ہے

  • ہر رات شبِ قدر

  • اور پوری زندگی وصال بن جاتی ہے

اگر سالک فنا کے بعد عنایتِ الٰہی سے لوگوں کی طرف لوٹے
تو یہ بقاء بعد الفناء کا مقام ہے،
اور وہ جانوں کی رہبری اور امامت کا اہل بن جاتا ہے۔


استمرارِ فیض اور عرفاء کی عید

عارف کے لیے خدا سے تعلق:

  • وقتی نہیں

  • بلکہ دائمی ہوتا ہے

ہر لمحہ فیضِ الٰہی نازل ہوتا ہے (تجدّدِ امثال)۔
عام لوگ سال میں دو عیدیں مناتے ہیں،
مگر عارف کے لیے ہر لمحہ عید ہے۔


رسالۂ سیر و سلوک (منسوب بہ سید بحرالعلوم)

یہ رسالہ سید بحرالعلومؒ کی طرف منسوب ہے۔
اگرچہ بعض نے نسبت پر شبہ کیا ہے،
لیکن سید علی قاضیؒ جیسے بزرگ اسے قطعی طور پر انہی کی تصنیف مانتے تھے۔


دستورات پر عمل کی شرط

استاد قاضیؒ کے مطابق:

  • اس کتاب پر عمل خودسرانہ نہیں ہونا چاہیے

  • بلکہ کسی شیخِ راہ کی اجازت اور نگرانی میں ہونا چاہیے

انسان عالمِ طبیعت میں کوئلے کی مانند ہے:
ٹھنڈا اور تاریک۔
جب تک وہ آگ کے قریب نہ ہو:

  • نہ گرم ہوتا ہے

  • نہ روشن

استاد یا ولیِ خدا اس آگ کی مانند ہے۔
اس کے بغیر کوئلہ کبھی آگ نہیں بنتا۔


استقامت کا کردار

اگر کوئلے کو کبھی آگ کے قریب اور کبھی دور کیا جائے تو وہ کبھی نہیں جلتا۔
اسی طرح عبادات میں:

  • اگر استقامت نہ ہو

  • تو وہ دل پر اثر نہیں کرتیں

سیر و سلوک ذرے بین کی مانند ہے:
اگر روشنی کو ایک نقطے پر مرکوز رکھا جائے تو آگ لگتی ہے،
ورنہ نہیں۔

انسان کا دل بھی:

  • توجہ

  • اور استقامت
    کے بغیر نورِ الٰہی سے مشتعل نہیں ہوتا۔

تاریخ انتشار: 1404/11/08      تعداد بازدید: 97
ادامه مطلب

اطــلاعــات تــمــــاس:

دفـتـر و ساختـمان آموزشـی: قم، خیابان معلم ، بلوار جعفر طیار ، نبش کوچه چهارم 

کدپستی: 3715696797

 

آموزش حضوری و مجازی (ساعت13 تا 18):

کارشناس آموزش مجازی : 02537741377
ارتباطات و روابــط عمــومــی: 09906265794