درس شــرح تـفسیــــر میــــزان
استاد: آیت اللہ سيد يزدان پناہ
تدوین:سید محمد حسن رضوی
لفظِ ’’ اللہ ‘‘ اصل میں الَہ تھا جس پر الف لام داخل ہے۔ آہستہ آہستہ کثرتِ استعمال کی وجہ سے ہمزہ حذف ہو گیا اور لفظِ ’’اللہ‘‘ بن گیا۔ عربی زبان میں عرفی طور پر اس طرح کا استعمال اکثر دیکھنے کو ملتا ہے، مثلا لفظ محمد اس کو کثرت استعمال کی بعض لوگ ممد بنا دیتے ہیں۔
لفظ إلہ
إِلَه بر وزنِ فِعَال کے درج ذیل دو معنی لغوی ہیں:
-
إِلَه کو ألِهَ الرَّجُل يَأْله، بمعنی عبد سے لیا گیا ہے۔ إِلَه بر وزنِ فِعَال بمعنی معبود آتا ہے، جیسے کتاب بروزنِ فِعَال بمعنی مفعول آتا ہے جس کا مطلب مکتوب ہے۔ اسی طرح إِلَه بر وزنِ فِعَال بمعنی مفعول یعنی معبود آتا ہے۔
-
إِلَه کو أَلِهَ الرَّجُل يَأْله، بمعنی تحیُّر و سرگردانی و حیرت سے لیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالی کو درک کرنے سے عقول حالتِ تحیُّر میں ہیں۔ بعض روایات میں وارد ہوا ہے:
{ قَالَ الْبَاقِرُ علیہ السلام : اللَّهُ مَعْنَاهُ الْمَعْبُودُ الَّذِي أَلِهَ الْخَلْقُ عَنْ دَرْک مَاهِيَّتِهِ وَالْإِحَاطَةِ بِکيْفِيَّتِه }[1]
امام باقرؑ فرماتے ہیں: اللہ کا معنی اس معبود کے ہیں جس کی ماہیت کے ادراک اور اس کی کیفیت کے احاطہ سے مخلوق حیرت و سرگردانی میں ہے۔
اللہ ذاتی سے مراد
لفظِ اللہ ایک مرتبہ ذات کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ایک مرتبہ بطورِ وصف۔ لفظِ اللہ غلبہ کی وجہ سے ذاتِ باری تعالی کے لیے عَلَم بن گیا ہے۔ یہ لفظ جب بھی عَلَم کے طور پر استعمال ہو گا تو اس سے مراد اللہ ذاتی ہے نہ کہ اللہ وصفی۔ اگر اللہ کہہ کر معبود مراد لیا جائے تو معبود ہونا ایک وصف ہے، جیساکہ متعدد موارد میں اسم اللہ سے معبود مراد لیا جاتا ہے۔ اکثر بیشتر اس کا استعمال بطورِ عَلَم آیا ہے، جیساکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اسم اللہ وصف/صفت کے طور پر نہیں بلکہ ذاتِ الہٰی کے عَلَم کے طور پر آیا ہے، یعنی اسم اللہ کے لفظ کے ذریعے خودِ ذات مراد لی گئی ہے۔ عرب زمانہِ جاہلیت میں بھی اس لفظ کو استعمال کرتے تھے اور اس سے ذاتِ حق مراد لیتے تھے، جیساکہ قرآن کریم کی بعض آیات سے ثابت ہوتا ہے:
{وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّه}[2]
{فَقالُوا هذا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَکائِنا}[3]
پس لفظِ جلالہ ذات کے لیے عَلَم کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور وصف کے لیے بھی، لیکن عَلَم بالغلبہ کی وجہ سے اس لفظ کا استعمال اکثر و بیشتر استعمال ذات کے لیے ہے، جیساکہ علامہ طباطبائیؒ المیزان فی تفسیر القرآن میں بیان کرتے ہیں: لکنَّ اسم الجلالة لما کان علما بالغلبة يدلّ علی نفس الذات من حيث إنه ذات وإن کان مشتملا علی بعض المعاني الوصفية التي يلمح باللام أو بالإطلاق إليها، فقوله: لا إِلهَ إِلَّا هُوَ، يدلّ علی نفي حق الثبوت عن الآلهة التي تثبت من دون الله.[4] اسم جلالہ صفت کے طور پر نہیں آتا جوکہ دلیل ہے کہ یہ علم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ پس اسم جلالہ موصوف وارد ہوتا ہے اور بقیہ سب اسماءِ حسنی اس کے لیے صفت کے طور پر آتے ہیں۔ اسی طرح تمام افعال جیسے رزق اللہ، خلق اللہ ان اسماء سے اخذ کر کے اللہ تعالی کی طرف نسبت دی جاتی ہے، مثلا الرحمن، الخالق ، الرازق، کہ یہ صفت ہیں جن سے فعل کو اخذ کیا جاتا ہے ، رحم اللہ ، خلق اللہ ، رزق اللہ، پھر یہ افعال موصوف کے ساتھ متصف پاتے ہیں۔ پس افعال خود اسماء سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ لیکن اسم جلالہ نہ صفت واقع ہوتا ہے اور نہ اس سے فعل کو اخذ کیا جاتا ہے۔ یہی صورت عرفی طور پر بھی ہمیں نظر آتی ہے ، مثلا لفظِ ہادی کسی کا نام رکھ دیں، اس صورت میں اس نام کو موصوف بنائيں گے اور اس کے لیے صفات کو ثابت کریں گے اور اس سے فعل کو اخذ کریں گے۔
وجودِ باری تعالی جوکہ ہر شیء کا الہ ہے ، یہ وجود تعالی بیان کرتا ہے کہ یہ وجود تمام صفاتِ کمالیہ کے ساتھ متصف ہے۔ پس یہ معنی کے مستجمع جمیع صفاتِ کمال ہے لغوی معنی سے اخذ نہیں کیا گیا بلکہ یہ ظاہر لفظ کے لوازم میں سے ہے۔ پس اسم جلالہ بطور علم ہے اور یہ علم تمام صفاتِ کمالیہ سے متصف ہے۔ یہ صفاتِ کمالیہ علم کے لازمہ سے سمجھا گیا ہے کیونکہ اسم جلالہ کہ ہر شیء کا الہ ہے، اس سے التزامی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ الہ تمام صفاتِ کمالیہ سے متصف ہے۔ پس اس ذات کا لازمہ ہے کہ وہ مستجمع جمیع صفاتِ کمالیہ ہے۔
علامہ طباطبائیؒ نے یہ بحث اس لیے مطرح کی ہے کیونکہ بعض نے اسم جلالہ سے مراد صرف ذاتِ مستجمع جمیع صفات لیا ہے۔ اس باب میں اور بہت سے اقوال ہیں جن کے تناظر میں علامہ طباطبائیؒ نے یہاں گفتگو کی ہے۔ علامہ کا موقف یہ ہے کہ اسم جلالہ عَلَم بالغلبہ ہے اور اگر اس سے وصفی مراد لیں تو وہ تحلیل کی صورت میں لیں گے ورنہ اسم جلالہ ذاتِ باری تعالی کے عَلَم بالغلبہ کے طور پر آتا ہے۔
اللہ وصفی سےمراد:
ایک ذات ہے اور ایک صفتِ الوہیت ہے۔ اللہ وصفی یعنی ذات مع صفتِ الوہیت۔ الوہیت سے مراد یہ ہے کہ ذات جو تمام خلقت کو تدبیر کرے، خلقت کو ایجاد کرے اور تدبیر کرے۔ اس کو الوہیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر ذاتِ حق کو اس معنی میں الوہیت سے متصف کیا جائے تو اس کو ’’اللہِ وصفی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ الوہیت یعنی جہتِ ایجاد و تدبیری، اس طور پر یہ اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ بلکہ تمام اسماء اسی اسم کی بناء پر ظاہر ہوتے ہیں۔
لفظِ اللہ بعنوان علم بالغلبہ سے براہ راست ذاتِ حق مراد ہے لیکن ’’اللہ وصفی‘‘ سے مراد وہ ذاتِ حق جو الوہیت بمعنی ایجاد و تدبیر سے متصف ہے۔ اس صورت میں الوہیت ایک وصف ہے جس سے ذات متصف ہو رہی ہے۔ پس اللہ یعنی وہ ذات جو مستجمع جمیع صفاتِ کمالیہ ہے اس صورت میں ’’اللہ وصفی‘‘ کہلائے گا جبکہ علم بالغلبہ کی صورت میں صرف ذات مراد ہے۔ ایک مرتبہ صرف ذات کی بات کی جاتی ہے اور ایک مرتبہ ذات کہ الوہیت کی جہت سے بحث کرتے ہیں۔ اگر صرف ذات کی بات کریں تو اس صورت میں اللہ ذاتی کہلائے گا اور اسی کے لیے علم بالغلبہ کے طور پر لفظِ اللہ ہے جبکہ ذات با صفتِ الوہیت کہ تدبیر و ایجاد کرے اس کو اللہِ وصفی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ پس اللہِ ذاتی اللہِ وصفی کے مقابلے میں ہے۔ اللہِ وصفی یعنی مستجمع جمیع صفاتِ کمالیہ جوکہ التزامی طور پر اسم جلالہ سے سمجھا جا رہا ہے۔
[1] التوحيد للشيخ الصدوق، ص ۸۹، باب ۴.
[2] الزخرف: ۱۸.
[3] الأنعام: ۱۳۶.
[4] الميزان فی تفسير القرآن، ج ۲، ص ۳۲۸.

.jpg)
.jpg)

.jpg)


.jpg)
وجود اور کَون کے درمیان فرق 


سالک کے لیے معراجِ ترکیبی اور معراجِ تحلیلی 








