منوی اصلی

وجود اور کَون کے درمیان فرق

تاریخ انتشار: 1404/11/29      تعداد بازدید: 13
وجود اور کَون کے درمیان فرق

وجود اور کَون کے درمیان فرق

اقتباس از درس فصوص الحکم (فصّ آدمی)
استاد: آیت اللہ حسن رمضانی
تدوین: سید محمد حسن رضوی



۱۔ الوجود
علم عرفان میں وجود کا اطلاق فقط اللہ سبحانہ پر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا وجود وہ حقیقت ہے جس کی ہستی اس کی عین ذات ہے۔ وجود بذاتہ متحق ہوتا ہے۔ حقیقی وجود صرف حق تبارک و تعالیٰ کا ہے، جبکہ دیگر تمام اشیاء مجازی وجودِ رکھتی ہیں یا وجودِِ حق کا پَرتو ہیں۔


۲۔ الکَون :
عرفانی اصطلاح میں کون سے مراد وہ امر ہے جو بذاتِ خود وجود نہیں ہے بلکہ نوِ وجودِ حق کی تجلی سے موجود ہوتا ہے۔ شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی کے مطابق ہر شیء جو وجود کی طرف منسوب ہو اس امرِِ وجودی کو کَون سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں وجود سے مراد حق ہے اور جو وجود کی طرف منسوب ہے وہ کَون ہے۔ کَون کو موجود بھی کہا جاتا ہے، خاص طور پر جب اس کی ماہیت اور تعین کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ پس شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی کے مطابق ہر وہ امر جو وجود کی طرف منسوب ہو اسے کََون کہا جاتا ہے۔



الأمر پر داخل الف لام سے مراد:
لفظِ امر پرداخل ہونے والے الف لام سے دو احتمال مراد لیے جا سکتے ہیں:
  •  یا تو الف لامِ استغراق جس سے مراد تمام الٰہی امور یعنی اسماء، و صفات، اعیانِ ثابتہ اور اعیانِ خارجہ ہیں۔
  • یا پھر یہ الف لام مضاف الیہ کے بدلے میں ہے۔ 


امر کے تین معانی:

امر کے تین ممکنہ معنی بیان کیے گئے ہیں:
۱) امر بمعنی فعل: یہ اللہ تعالیٰ کے تمام افعال۔
۲) امر بمعنی شأن: یہ معني فعل سے اعمّ تر ہے، کیونکہ اس میں فعل کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی صفات جیسے رحمت، غضب، سخاوت بھی شامل ہے۔
۳) امر بمعنی کُن یعنی ہو جانا: اس سے مراد وہ تمام موجودات ہیں جو اللہ کے حکمِ کُن سے وجود میں آئے ہیں۔

 

انسانِ کامل بطورِ کَونِ جامع

عرفان میں انسانِ کامل کو اسمِ آدم سے موسوم کیا جاتا ہے۔ انسانِ کامل یا آدم وہ حقیقت ہے جو تمام اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء اور کمالات کو اپنے اندر ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بقیہ تمام موجودات کے کمالات محدود اور مخصوص ہیں، مثلاً کسی کا فلسفی یا شاعر ہونا۔ البتہ انسانِ کامل تمام حدود سے مبرّا ہو کر ہر صفت کا مظہر بن سکتا ہے۔


مشیتِ الٰہی اور تخلیق کا راز
اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور کمالات کا مشاہدہ اپنی اوّلیت اور باطنیت کے مرتبہ پر کرتا ہے جہاں سب کچھ ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہیں۔ حق تعالیٰ کی مشیت اس امر کے متعلق ہوئی کہ وہ اپنے کمالات کا مشاہدہ اپنی آخریت اور ظاہریت کے مرتبہ پر بھی کرے جس سے مقصد اول و آخر اور ظاہر و باطن میں مطابقت پیدا کرنا تھأ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے کونِ جامع یعنی انسانِ کامل کو اس امر کی تکمیل کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے۔ کَونِ جامع اللہ تعالی کے تمام ذوات، افعال اور صفات میں فنا ہے۔ اسی طرح تمام وجودات اسی ایک وجودِِ حقیقی کے جلوے ہیں۔ 

عرفانی قاعدہ: البدایات تشابه النهایات 
علم عرفان کا کلی قاعدہ البِدَایَاتُ تُشَابِہُ النِّھَایَاتِ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آغازانجام کے مشابہ ہوتا ہے، مثلاً ایک بیج سے گندم کا پودا بنتا ہے جس کے آخر میں پھر ویسا ہی بیج حاصل ہوتا ہے، اسی طرح آفرینشِ و خلقتِ عالَم قوسِِ نزول سے شروع ہو کرقوسِِ صعود کے ذریعے واپس اپنی اصل یعنی اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے۔

الاضافہ الاشراقیہ 
کَون اور وجود کے درمیان موجود نسبت فرضی یا اعتباری نسبت نہیں ہے بلکہ حقیقی نسبت ہے جسے اضافہِ اشراقیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 


اسماءِ ذاتیہ اور شؤونِ الہٰی
حق تعالیٰ کی صفات جیسے رحمت، غضب، جود اور سخا وغیرہ کو شؤونِ الہٰی کہتے ہیں۔ شؤون سے مراد مختلف افعال و خصوصیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام کلماتِ وجودی کے ساتھ الگ الگ شؤون قرار دئیے ہیں لیکن انسانِ کامل میں اپنے تمام شؤون یکجا کر دیئے ہیں۔۔

تخلیق عالم اور مشیتِ الہٰی کا راز
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور کمالات کا مشاہدہ اپنی ذات میں اوّلیّت اور باطنیّت کے مرتبہ میں کیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ وہ ان کمالات کا مشاہدہ آخریّت اور ظاہریّت کے مرتبہ میں بھی کرے تاکہ اول کو آخر اور ظاہر کو باطن کے مطابقت دے دے اور یہی تمام کائنات کی تخلیقِ اور مشیتِ الٰہی کا راز ہے۔
اشتراک گذاری:
نظرات

اطــلاعــات تــمــــاس:

دفـتـر و ساختـمان آموزشـی: قم، خیابان معلم ، بلوار جعفر طیار ، نبش کوچه چهارم 

کدپستی: 3715696797

 

آموزش حضوری و مجازی (ساعت13 تا 18):

کارشناس آموزش مجازی : 02537741377
ارتباطات و روابــط عمــومــی: 09906265794