منـــاجـــــات خــــمس عــــشـر
(مناجات شاکین)
استاد: آیت اللہ حسن رمضانی
تدوین:سید محمد حسن رضوی
إِلَهِي إِلَيْكَ أَشْكُو نَفْساً بِالسُّوءِ أَمَّارَةً وَإِلَى الْخَطِيئَةِ مُبَادِرَةً، وَبِمَعَاصِيكَ مُولَعَةً، وَلِسَخَطِكَ مُتَعَرِّضَةً . (مناجاة الشاكن، كتاب: زاد المعاد، مجلسى، ص ۴۰۷)
شیخ صدوق نے نقل کیا ہے کہ امام علیؑ فرماتے ہیں: مَا جَفَّتِ الدُّمُوعُ إِلَّا لِقَسْوَةِ الْقُلُوبِ وَمَا قَسَتِ الْقُلُوبُ إِلَّا لِكَثْرَةِ الذُّنُوبِ: آنسو خشک نہیں ہوتے سوائے دلوں کی قساوت کے اور دل سنگدل و قسی نہیں ہوتے سوائے کثرتِ گناہوں کے۔ (صدوق، علل الشرائع، ج ۱، ص ۸۱ ، حدیث ۱) جو شخص سنگدلی کا شکار ہو اس کے آنسو بہنا رک جاتے ہیں اور وہ بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔پھر وہ کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا۔ دلوں کی بے حسی اور سختی و سنگدلی کی بنیادی وجہ کثرتِ گناہ ہیں۔ انسان جب گناہ پر گناہ کرتا تو یہ گناہ اس کے دل کو سختی و سنگدلی کا شکار کر دیتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو اپنی تخریب کاری اور گناہوں پر فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ فرق نہیں پڑتا انسان کے گناہوں کا تعلق حقوقِ الٰہی یعنی شرعی و دینی وظائف و فرائض سے ہو یا لوگوں اور عوام کے حقوق سے ہے اسے اپنے جرم اور گناہ کی تلافی کے لیے فورا توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔
اگر کوئی اپنے گناہوں پر فوراً توبہ و استغفار نہ کرے اور گناہوں پر گناہ کرتا چلا جائے تو دل آہستہ آہستہ قبول کرنے کی حالت کھو دیتا ہ اور گناہوں کے بار گراں سے بھاری سے بھاری ہوتا جاتا ہے۔ لہٰذا روایت میں وارد ہوا ہے:خوشا باحال ہیں وہ لوگ جو ہر گناہ کے ساتھ ایک استغفار اور ایک حقیقی توبہ کرتے ہیں ۔ضروری ہے کہ انسان حقیقی معنی میں پشیمان ہو۔ مذاق اور تمسخر والی توبہ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر اس نے حقوق میں سے کوئی حق چھوڑا ہے یا تو اس کی تلافی کرے۔ اگر اس نے کسی پر ظلم کیا ہے خدانخواستہ کسی کی غیبت کی ہے تو اس سے معافی مانگ کر اسے راضی کرے اور اپنی اصلاح کرے۔ ایسا نہ ہو کہ گذشتہ گناہ کی تلافی نہیں ہوئی اور اس نے فوراً دوسرا گناہ کر انجام دے دیا !! اس طرح پچھلے گناہ میں اضافہ ہو جاتا چلا جائے گا اور دو کے بعد تین اور اس طرح گناہوں کا ڈھیر اکٹھا ہو جائے گا۔ مسلسل گناہ حقیقت میں انسانی دل کی قساوت کا باعث بنتے ہیں۔لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کی سنت کے مطابق ہر روز کم از کم ۷۰ بار استغفار کریں۔فضاء اخلاقی و سیر و سلوک میں دستور اخلاقی کے طور پر ۷۰ بار استغفار کرنا تعلیم دیا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں: إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ بِالنَّهَارِ سَبْعِينَ مَرَّةً، یقیناً میرے دل پر کبھی ہلکا سا غبار چھا جاتا ہے ، لہٰذا میں دن میں ستر مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ (مجلسی، بحار الانوار، ج ۲۵، ص ۲۰۴) لفظ يُغَانُ کا معنی دل پر ہلکی سی پردہ پوشی یا غبار آ جانے کے ہیں جس کی وجہ گناہ کا صادر ہونا نہیں ہے بلکہ یہ توجہ کے ادنیٰ درجے کی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ لہٰذا رسولِ اکرم ﷺ کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے تاکہ مقامِ قرب اور کمالِ حضور برقرار رہے۔
توبہ کی چھ شرائط :
امام علیؑ سے نہج البلاغہ میں وارد ہوا ہے کہ ایک کہنے والے نے آپؑ کے سامنے ’’استغفراللہ‘‘ کہا تو آپؑ نے اس سے فرمایا:تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے! کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیا ہے؟ استغفار بلند منزلت لوگوں کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے:۱۔ پہلے یہ کہ جو ہو چکا اس پر نادم ہو، ۲۔ دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کا تہیہ کرنا، ۳۔ تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اور تم پر کوئی مواخذہ نہ ہو، ۴۔ چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے اور تم نے انہیں ضائع کر دیا تھا انہیں اب پورے طور پر بجا لاؤ، ۵۔ پانچویں یہ کہ جو گوشت (اَکل) حرام سے نشو و نما پاتا رہا ہے اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤ یہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملادو کہ پھر سے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو، ۶۔ چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے۔ تو اب کہو: ’’استغفراللہ‘‘۔ (نہج البلاغہ، ص ۵۴۹، حکمت قصار: ۴۱۷)
کلامِ امام علیؑ کی وضاحت:
امیر المؤمنینؑ کی بیان کردہ چھ شرائط میں سے پہلی دو شرطیں قوام و تشکیل توبہ کی شرائط ہیں، تیسری اور چوتھی شرط قبولیت ِتوبہ کی شرائط ہیں اور آخری دو شرائط کمالِ توبہ و استغفار کی شرط ہیں۔
پہلی شرط:
امام علیؑ نے توبہ کی چھ شرائط میں سے پہلی شرط دل کی گہرائی سے حقیقی پشیمانی کا ہونا بیان فرمایا ہے۔ حقیقی ندامت میں مبتلا ہو تو اس طرح کے احساسات جنم لیتے ہیں کہ ہم سے کیا غلطی ہو گئی !! یہ ہم سے کیسا کام ہو گیا؟! انسان کا اندر سے ندامت اور پشیمانی میں مبتلا ہونا ضروری ہے۔
دوسری شرط:
امام علیؑ نے دوسری شرط ترک کرنے کا عزم بالجزم بیان فرمائی ہے۔ جو شخص اپنے کیے پر واقعی پشیمان ہوتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کام کو دوبارہ نہ کرنے کا مصمم ارادہ اور فیصلہ کرے۔ اگر ترکِ گناہ کا محکم عزم نہیں کیا اور اس سے وہ عمل دوبارہ سرزد ہو جائے تو اس کا مطلب ہے وہ حقیقی معنی میں گناہ سے پشیمان نہیں ہوا تھا۔ پہلی دو شرطیں علماءِ اخلاق کی نظر میں قوامِ توبہ و استغفار ہے۔ قوام سے مراد ایک حقیقت و ماہیت کو تشکیل دینے والے اجزاء ہے، جیسے انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انسان حیوان ناطق ہے۔ حیوانیت جنس اور ناطقیت فصل ہے جس نے ماہیت ِانسان کو قوام دیا ہے۔ اسی طرح توبہ اور استغفار بغیر پشیمانی اور گناہ کو ترک کرنے کے عزم کے بغیر قوام نہیں پاتا۔
تیسری شرط:
کلامِ امیر المؤمنینؑ میں تیسری شرط الٰہی حقوق کی تلافی ہے۔ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کا عائد کردہ حق ترک کر دے، مثلاً نمازو روزہ کا بجا لانا یا دیگر شرعی تکالیف کو بجالانا ترک کر دے تو اس گناہ سے توبہ اس وقت کہلائے گی جب وہ ان کا جبران اور تلافی کرے اور تمام وظائف ادا کرے۔
چوتھی شرط:
امام علیؑ کے کلام میں چوتھی شرط عوام اور لوگوں کے حقوق کو ادا کر کے تلافی کرنا ہے۔ اگر کسی کی حق تلفی کی ہے تو توبہ اسی وقت کہلائے گی جب وہ حق ادا کر دیا جائے۔ علماءِ اخلاق کے مطابق یہ دو شرائط توبہ کی قبولیت کی شرائط ہیں۔ جس کی گردن پرالہٰی حقوق یا لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا بار موجود ہو اس کی توبہ ِبارگاہ الہٰی میں قبول نہیں ہوتی۔
پانچویں شرط:
کلامِ امامؑ میں پانچویں شرط لذتِ گناہ کی تاثیر کو مٹانا ہے۔ گناہگار نفس کو گناہ کی انجام دہی سے جو لذت و لطف حاصل ہوا ہے اسے اس چاہیے کہ اس کا ازالہ اطاعت کی سختی ، زحمت اور مشقت سے کرے۔ اطاعت و عبادت میں انسان کے لیے زحمت ،تکلیف اور مشقت ہے۔ پس ضروری ہے کہ جس طرح معصیت کار نے جس طرح گناہ کی لذت چکھی ہے ویسے ہی وہ اطاعت کی سختی بھی چکھے۔
چھٹی شرط:
کلامِ امامؑ میں آخری شرط نوعیت ِاطات سے متعلق ہے کہ معصیت کار کی معصیت سے جو گوشت پوست اس کے بدن پر چڑھ گیا ہے وہ اطاعت کر کر کے اس کو اس طرح پگھلائے کہ اس کی جگہ نیا اور تازہ گوشت آ جائے۔بالفاظِ دیگر اس قدر اطاعت الہٰی کی زحمت اٹھائے کہ اس نے اپنے جسم کے جن خلیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی اور جن خلیوں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ نافرمانی انجام پائی تھی وہ سب فاسد خلیے چلے جائیں اور ان کی جگہ پر نئے خلیے آ جائیں۔کہا جاتا ہے کہ ہر 6 سال میں انسانی جسم کے تمام خلیےبدل جاتے ہیں۔ اگر اس تحقیق سے استفادہ کریں تو کہہ سکتے ہین کہ حقیقی توبہ کے لیے انسان مسلسل 6 سال اطاعت ِالہٰی انجام دیتا رہے اور گناہ و معصیت سے اس تمام عرصہ کاملا اجتناب کرے۔ اگر ۶ سال گناہ سے اپنی حفاظت کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بجا لائی تو آلودہ تمام خلیوں سے انسان نجات پا لے گا۔ لیکن خدانخواستہ اگر اس نے دوبارہ گناہ کر دیا تو پھر اس کے جسمانی خلیے آلودہ ہو جائیں گے جو حقیقی توبہ کےدوبارہ سے محتاج ہوں گے۔
تلاوتِ قرآن ، قراءتِ روایات اور ذکر ِاہل بیتؑ کی تاثیر اینٹوں، پتھر و پلستر کے ٹکڑوں اور جو جو چیزیں اس عمارت کی ہیں سب پر رونما ہوتی ہے۔ یہ سب چیزیں الٰہی آیات سے متاثر ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر خدانخواستہ کسی جگہ کوئی گناہ و معصیت یا لہو و لعب انجام پاتا ہے اس قباحت و فساد سے تمام چیزیں آلودہ ہوتی ہیں۔ علامہ طباطبائیؒ کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ہر سال ایک خاص جگہ منعقد ہونے والی مجلس امام حسینؑ میں حاضر ہوتے تھے۔ مرحوم علامہ طباطبائیؒ ایک دن مجلس کے لیے تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ مکان میں نئی تعمیرات ہوئی ہیں اور نیا حصہ بننے کی وجہ سے اس نئے حصہ میں پہلی والی نمی محسوس نہیں ہو رہی۔آپ اس نئے تعمیرات والے حصہ سے اٹھے اور پرانی تعمیرات والے حصہ میں آئے گے جو اپنی پرانی حالت میں موجود تھا اور وہاں بیٹھ گئے۔ میزبانِ مجلس نے جگہ بدلنے کی وجہ دریافت کی تو علامہؒ نے بیان کیا کہ یہاں ہمیشہ حسین بن علیؑ کی مصیبت کا ذکر ہوتا رہا ہے جس کی آوازوں پھیلنے کی وجہ سے در و دیوار اور یہ جگہ بابرکت ہو گئی ہے۔ اس ذکرِ امام حسینؑ کی خاصیت و اثر اس پرانی جگہ پر اب بھی موجود ہے۔ یہ نئی تعمیرات، سیمنٹ وغیرہ ویسی تاثیر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ انسان ان پتھر اور سیمنٹ وغیرہ سے زیادہ بابرکت ہے جو برسوں حسین بن علیؑ کا ذکر اور ان کی مصیبت سنتا رہا ہے۔ ہمارے جسم کے یہ خلیے بھی اسی طرح ہیں۔ آپ نے ان جسمانی خلیوں کے ساتھ جو قرآن کی قرأت کی، ان خلیوں کے ساتھ نیکی کا جو کام انجام دیا ہے وہ ان خلیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح جن خلیوں کے ساتھ جو گناہ اور معصیت انجام پائی ہے اور ہڈیوں پر اس سے گوشت پوست چڑھا ہے اس کی پر گناہ کی تاثیر موجود ہوتی ہے جو اسی وقت زائل ہو سکتی ہے جب وہ گوشت چربی پگھل جائے اور اس کی جگہ نیا اور تازہ گوشت آ جائے تاکہ توبہ کامل ہو جائے۔علماءِ اخلاق کے مطابق آخری شرائط کمالِ توبہ و استغفار کی شرط ہیں۔ ، کمالِ استغفار۔
گناہ سے بچاؤ کا طریقہ مراقبہ:
مراقبہ انسان کو گناہ سے بچاتا ہے اور توبہ و استغفار انسان کو بہتر بناتے ہیں۔ ندامت اور پچھتاوے سے انسان میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو ترکِ گناہ کے عزم سے حقیقی معنی میں جنم لیتی ہے۔ اگر اندر سے گناہ کی چاہت باقی ہو تو یہ استغفار و توبہ نہیں ہے کیونکہ دل ابھی بھی گناہ کی چاہت میں مبتلا ہے جس کا نفس پر گہرا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ خصوصاً یہ معاملہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب گناہ پر گناہ انجام پاتا ہے جوکہ دل کو سیاہ اور قلب کو بھاری کر دیتا ہے۔ گناہ کے شر سے خود کو حقیقی استغفار کے ساتھ نجات دینا چاہیے۔ مراقبہ محافظ ہے جبکہ توبہ و استغفار معالج و طبیب ہے۔ آفت ِگناہ سے بچانے کا کام مراقبہ کرتا ہے جبکہ استغفار علاج کے حکم میں آتا ہے۔ مراقبہ انسان کو صحیح سالم رکھتا ہے جو اگر مرضِ گناہ سے آلودہ ہو جائے تو توبہ اور استغفار اس کا علاج قرار پاتے ہیں۔
خوش نصیب لوگ:
خوش نصیب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ علاج پر نہیں چھوڑا بلکہ انہوں نے مرض اور بیماری کی روک تھام کی۔ اگر انسان واقعی تندرست و سالم ہو اور اپنی صحت کا خیال رکھے اور بیماری یا آفت نہ آنے دے تو وہ دوا، علاج، طبیبوں کے چکر کاٹنے اور آپریشن و جراحی وغیرہ کی اذیت سے بچ جائے گا ، مثلاً اگر کسی کے دانت خراب ہو گئے تو وہ کیسی کیسی اذیتوں کو اٹھاتا ہے اور دندان ساز کے پاس جا جا کر اپنا علاج کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ شخص جوہر رات مسواک کرتا ہے، منہ اور دانتوں کی حفاظت کرتا ہے تو ان تمام دردوں تکلیفوں اور معالجہ کی اذیتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ علاج میں محنت کے ساتھ تکلیف، مشقت اور زحمت ہے جبکہ اپنی حفاظت میں نعمت ِصحت اور تندرستی ہے۔ نفس کے بچاؤ کو مراقبہ کہتے ہیں اور نفس کے علاج کو توبہ و استغفار ان شرائط کے ساتھ جو نہج البلاغہ میں امیر المؤمنینؑ نے رہنمائی فرمائے ہیں۔
مومن عہد کا پابند
ہمیں امام علیؑ کے اس فرمان کو سنجیدہ لینا چاہیے: دل کی قساوت گناہ کی کثرت کی وجہ سے ہے۔ ترکِ گناہ کا عزم اور اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان انسانی نفس کو صحت سے ہمکنار کر دیتا ہے۔ لہٰذا جو شخص عہد کرتا ہے اور شرط باندھتا ہے اور اس کے بعد اپنے عہد و شرط کی پابندی کرتا ہے وہی مومن کہلاتا ہے کیونکہ المؤمنون عند شروطهم ، مومنین اپنی شروط کی پابندی سے رعایت کرتے ہیں اور اپنے عہد و شرط پر قائم رہتے ہیں۔ اس کے برعکس کافر و منافق آتا ہے جو اپنے عہد و پیمان کی رعایت نہیں کرتا جیساکہ سورہ میں عہد و پیمان توڑنے کے وصف کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کفار کی مذمت فرماتا ہے: قَاتِلُوا أَئِمَّةَ الۡكُفرِ إِنّهُم لَا أَيۡمَانَ لَهُم، آئمہ ِکفر کے ساتھ جنگ و قتال کرو کیونکہ ان کا کوئی اَیمان (عہدو پیمان) نہیں ہے۔ (توبہ: ۱۲) کفار پیمان، عہد اور شرط وغیرہ کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے مفادات خطرے میں پڑنے لگتے ہیں تو وہ اپنے عہدو پیمان پر قائم نہیں رہتے۔ عہد و پیمان توڑ دینے والا ہر گز سعادت کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا۔ وہ زمین جو نرم ہوتی ہے اس پر جو عمل انجام دیا جاتا ہے وہ اس میں سرایت کر جاتا ہے، مثلاً وہ زمین فورا بیج کو قبول کر لیتی ہے، پانی بآسانی اس میں سرایت کر جاتا ہے۔ ایسی زمین زرخیز کہلاتی ہے جو طرح طرح ہریالی، پھل پھول اور باغات و فصلوں کی آبادی کا مرکز بن جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ زمین آتی ہے جو سخت، بنجر اور تلخی سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں جو بوئیں وہ اگتا نہیں ہے، پانی اس میں سرایت نہیں کرتا اور کسی قسم کی بھلائی اس زمین سے صادر نہیں ہوتی۔ ایسی زمین پر نہ آیات کا اثر ہوتا ہے اور نہ وعظ و نصیت تاثیر گزار ہوتی ہے۔ انسانی نفوس کی بھی یہی کیفیت ہے۔ قسی و سخت دلوں پر اللہ تعالیٰ کی آیات و اہل بیتؑ کے نورانی کلمات کا اثر نہیں ہوتا ۔ ایسے میں وہ نفس شیاطین کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور کسی قسم کا خیر و برکت کا اس سے صدور نہیں ہوتا۔ یہ منبع شر خود تو ہلاکت سے دوچار ہے دوسروں پر بھی بری تاثیر ڈالتا ہے کیونکہ اس طرح کا نفس تاثیر اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان سے لے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفوس کے شرور سے محفوظ فرمائے۔



