تاریخ انتشار: 1405/02/24 تعداد بازدید: 4
کتاب سرح العیون فی شرح العیون
(نفس کی مختلف قوتیں)
تدریس : آیت اللہ حسن رمضانی
تدوین: سید محمد حسن رضوی
(نفس کی مختلف قوتیں)
تدریس : آیت اللہ حسن رمضانی
تدوین: سید محمد حسن رضوی
’’بدنِ مادی‘‘ نفس کا مرتبہِ نازلہ ہے۔ بدن کا نفس سے تعلق حقیقی ہے۔ نفس مرتبہِ عالی ہے جس کا مرتبہِ نازلہ بدن ہے۔ نفس کی متعدد قوتیں ہیں جن کے ذریعے سے نفس افعال انجام دیتا ہے، مثلا قُوَیِ عاقلہ، متخیّلہ ... وغیرہ۔ ان میں سے ہر ایک قوت کا اپنا امتیاز ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نفس اور ان قُوَی میں فرق ہے، جیسے آپ جب قوتِ بصارت کو استعمال کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا۔ ان تمام قُوَی اور ان کے افعال کی نسبت انسان اپنے نفس کی طرف دیتا ہے۔ یہ تمام قوتیں نفس کے ذریعے قائم ہیں اور نفس ان قوتوں کا حقیقی مالک اور قیّوم ہے۔ نفس خود اپنی قوتوں اور اپنے افعال سے غائب نہیں ہے۔
اللہ تعالی کے بارے میں علم بالعلم
ایک مرتبہ ہماری گفتگو علم کے بارے میں ہے اور ایک مرتبہ علم بالعلم کے بارے میں ہے۔ اسی طرح جیسے جہل کو جہل بسیط اور جہل مرکب میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جہل مرکب وہ ہے جو اس بات سے جاہل ہے کہ میں جاہل ہوں۔ اسی طرح علم بسیط اور علم مرکب ہے۔ پس ہماری گفتگو ایک مرتبہ علم بسیط کے بارے میں ہے اور ایک مرتبہ علم مرکب کے بارے میں ہے۔
نفس علم رکھتا ہے اس کا اعتراف ہر کوئی کرتا ہے جوکہ قطعی اور واضح ہے۔ البتہ علم بالعلم پر دقت کرنے کی ضرورت ہے۔ علم بالعلم کہ میں جانتا ہوں کہ میں اپنے آپ سے غافل نہیں ہوں، میں جانتا ہوں کہ میں اپنے قُوَی سے جاہل نہیں ہوں بلکہ ان کا عالم ہوں، میں جانتا ہوں کہ میں اپنے افعال سے غافل نہیں ہوں۔ توجہ ہے تو احساس ہوتا ہے، اگر توجہ نہ ہو تو احساس نہیں ہو گا۔ اخوند اسفار میں کہتے ہیں کہ ہم سب اللہ تعالی کے بارے میں علم رکھتے ہیں لیکن علم بالعلم نہیں رکھتے، یعنی یہ علم نہیں ہے کہ ہمیں علم ہے۔ پس ہم سب علم بالحق رکھتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہم علم رکھتے ہیں۔ کیونکہ خود اللہ تعالی کے جداول میں سے ایک جدول ہے۔ ہم سب حامدِ الہٰی ہے جو اللہ تعالی کی حمد کر رہے ہیں۔ حمد کمالات اور محامد پر ہوتے ہیں، کیا ہم کوئی کمال تصور کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمالات میں سے کمال نہ ہو !! کیونکہ ہر کمال اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اس لیے ہر حمد حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی حمد ہے۔ حتی پہاڑ، سمندر کسی خوبصورت منظر کے کمال پر جب ہم عش عش کر اٹھتے ہیں تو یہ کمال ِ الہٰی کی حقیقت میں حمد ہے۔ حقیقت میں حامد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ پس ہم میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم رکھتا ہے، ہر ایک حمد کرتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ میں حامد ہوں۔ یہی بات مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه میں ہے۔
نفس علم رکھتا ہے اس کا اعتراف ہر کوئی کرتا ہے جوکہ قطعی اور واضح ہے۔ البتہ علم بالعلم پر دقت کرنے کی ضرورت ہے۔ علم بالعلم کہ میں جانتا ہوں کہ میں اپنے آپ سے غافل نہیں ہوں، میں جانتا ہوں کہ میں اپنے قُوَی سے جاہل نہیں ہوں بلکہ ان کا عالم ہوں، میں جانتا ہوں کہ میں اپنے افعال سے غافل نہیں ہوں۔ توجہ ہے تو احساس ہوتا ہے، اگر توجہ نہ ہو تو احساس نہیں ہو گا۔ اخوند اسفار میں کہتے ہیں کہ ہم سب اللہ تعالی کے بارے میں علم رکھتے ہیں لیکن علم بالعلم نہیں رکھتے، یعنی یہ علم نہیں ہے کہ ہمیں علم ہے۔ پس ہم سب علم بالحق رکھتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہم علم رکھتے ہیں۔ کیونکہ خود اللہ تعالی کے جداول میں سے ایک جدول ہے۔ ہم سب حامدِ الہٰی ہے جو اللہ تعالی کی حمد کر رہے ہیں۔ حمد کمالات اور محامد پر ہوتے ہیں، کیا ہم کوئی کمال تصور کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمالات میں سے کمال نہ ہو !! کیونکہ ہر کمال اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اس لیے ہر حمد حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی حمد ہے۔ حتی پہاڑ، سمندر کسی خوبصورت منظر کے کمال پر جب ہم عش عش کر اٹھتے ہیں تو یہ کمال ِ الہٰی کی حقیقت میں حمد ہے۔ حقیقت میں حامد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ پس ہم میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم رکھتا ہے، ہر ایک حمد کرتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ میں حامد ہوں۔ یہی بات مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه میں ہے۔
نفس کا جوہر اور اپنی قُوی کا علم حضوری ہونا:
نفس جوہر ہے اور اس کے مجرد ہونے کے دلائل مطلق طور پر اس کے جوہر ہونے پر بھی دلالت کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے نفس بذاتِ خود احساس کرتا ہے کیونکہ ہر جوہرِ مجرد عقل و عاقل و معقول ہے۔ہر مجرد ایک نوع شعور و علم رکھتا ہے جبکہ مادی ظلمت و جہالت اور بے شعوری ہے۔ دیوارِ مادی ایک طرف سے دوسری طرف کا علم نہیں رکھتی۔ لیکن مجرد ایک نوع شعور رکھتا ہے، ایک نوع علم رکھتا ہے۔ ساتویں نمبر(۷) عین میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ بدن حقیقت میں نفس کا مرتبہِ نازلہ ہے اور سترہ (۱۷) نمبر عین میں ہم نے ملاحظہ کیا کہ نفس واحد ہوتے ہوئے بھی اپنی تمام قُوَی کا مالک ہے اور اپنے تمام قُوَی کے تمام افعال کو اپنے فعل میں شامل ہے۔ کیونکہ نفس جب ان قُوَی کو استعمال کرتا ہے تو وہ ان سب کا علم بھی رکھتا ہے کیونکہ شیء کا استعمال کرنا فرع ہے کہ اس کا کہ وہ اس کا علم رکھتا ہے ۔
پس نفس جب ان قُوَی کا استعمال کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نفس ان تمام قُوَی کا اور ان قُوَی کے افعال اور ان کی محل و جگہ اور تمام آلات کا علمِ حضوری رکھتا ہے۔ نفس کسی واسطہ سے ان کا علم نہیں رکھتا بلکہ بغیر کسی تصور اور صورت کے واسطے کے ان سب قُوَی اور اس کے افعال کا علم رکھتا ہے جوکہ علم حضوری ہے۔ نفس کا علم ’’علم بسیط‘‘ ہے نہ کہ علم مرکب یعنی علم بالعلم۔نفس کا اپنے آپ کو اور اپنی قُوَی اور اس کے افعال کا جاننا علم بسیط ہے نہ کہ علم بالعلم۔ یہ ساری بحث نظری ہے ورنہ عرفا ن میں آئیں تو ہر ذرہ کہے گا میں سمیع ، بصیر ، علیم ہوں کیونکہ ہر شیء کا اس کے احاطہ کے مطابق شعور و علم ہے۔
پس نفس جب ان قُوَی کا استعمال کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نفس ان تمام قُوَی کا اور ان قُوَی کے افعال اور ان کی محل و جگہ اور تمام آلات کا علمِ حضوری رکھتا ہے۔ نفس کسی واسطہ سے ان کا علم نہیں رکھتا بلکہ بغیر کسی تصور اور صورت کے واسطے کے ان سب قُوَی اور اس کے افعال کا علم رکھتا ہے جوکہ علم حضوری ہے۔ نفس کا علم ’’علم بسیط‘‘ ہے نہ کہ علم مرکب یعنی علم بالعلم۔نفس کا اپنے آپ کو اور اپنی قُوَی اور اس کے افعال کا جاننا علم بسیط ہے نہ کہ علم بالعلم۔ یہ ساری بحث نظری ہے ورنہ عرفا ن میں آئیں تو ہر ذرہ کہے گا میں سمیع ، بصیر ، علیم ہوں کیونکہ ہر شیء کا اس کے احاطہ کے مطابق شعور و علم ہے۔
نظرات



