منوی اصلی

امام شہید سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) سے سب سے زیادہ شباہت(اَشبَہُ الناس) رکھنے والی شخصیت کا طلوع ہونا

تاریخ انتشار: 1405/02/28      تعداد بازدید: 17
امام شہید سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) سے سب سے زیادہ شباہت(اَشبَہُ الناس) رکھنے والی شخصیت کا طلوع ہونا
اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بڑا احسان فرمایا کہ امام شہید کے جانسوز شہادت کے بعد، ان سے جامعیت، زہد اور صلابت میں سب سے زیادہ مشابہ فرد کو ہمارا رہبر اور مقتدا قرار دیا۔ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ‌ای(مدظلہ العالی) نے برسوں اپنی فرزانگی کے سورج کو گمنامی کے بادل میں چھپائے رکھا، یہاں تک کہ خبرگان کا تکلیف اور بیعت انہیں ہدایت اور ولایت کے خطرناک میدان میں لے آئی۔

سیدمحمدحسین راجی
ترجمہ ڈاکٹر محمد دلطیف مطہری
 
اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بڑا احسان فرمایا کہ امام شہید کے جانسوز شہادت کے بعد، ان سے جامعیت، زہد اور صلابت میں سب سے زیادہ مشابہ فرد کو ہمارا رہبر اور مقتدا قرار دیا۔ آیت اللہ #سید_مجتبیٰ_خامنہ‌ای(مدظلہ العالی) نے برسوں اپنی فرزانگی کے سورج کو گمنامی کے بادل میں چھپائے رکھا، یہاں تک کہ خبرگان کا تکلیف اور بیعت انہیں ہدایت اور ولایت کے خطرناک میدان میں لے آئی۔

1. وہ شخصیت جو رہبرِ شہید سے سب سے زیادہ مشابہ تھے اور ان کے رازوں کی امین تھے۔
وہ شہید کے والامقام فرزند اور شہیدہ بیوی کے خاوند ہیں؛ ایثار کے خاندان کا وہ عظیم مرد جس نے والد، بیوی اور اپنے پاک خاندان کے کئی افراد کی شہادت کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ وہ رہبرِ شہید کے دل کے عزیز تھے، جہاں اس بزرگ کی نفاذ نگاہ میں وہ سیاسی لحاظ سے ان کے قریب ترین بیٹے شمار ہوتے تھے؛ اتنے جامع اور عقلمند منتظم کہ ہمیشہ ان کی بات اور رائے، وہی ولایت کی رائے اور حکم ہوتی تھی۔

2. دو دفاعِ مقدس کے سرافراز سپاہی اور جانباز۔
وہ مجاہد جس نے اپنے جسم پر دو مرتبہ جانبازی کا تمغہ پہن رکھا ہے؛ ایک بار آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کی حماسہ اور استقامت کے سالوں میں، اور دوسری بار تیسرے دفاعِ مقدس کے خطرناک میدان میں۔ وہ قربانی کا مکمل آئینہ ہے جس نے اپنی جان بار بار اس نظام اور قوم پر ڈھال بنا دی۔

3. پغیر درجے کے کمانڈر اور محورِ مزاحمت کے حکمتِ عملی کے معمار
وہی عظیم مرد ہے جو رہبرِ شہید کی طرف سے، حاج قاسم سلیمانی اور سید حسن نصراللہ کے ساتھ کئی گھنٹوں کی خفیہ نشستوں میں، کفر سے جنگ اور علاقائی مسائل کی پیشانی کی خطوط کھینچتے تھے؛ بغیر اس کے کہ اس کا نام کہیں ذکر ہو، خطے کے مجاہدوں کا مضبوط سہارا تھا۔

4. فراز و نشیب سے بھرے دنوں میں انقلابی تحریکوں کو منظم کرنے والا۔
سخت سال ۱۳۹۷ میں، جب ولی امر مسلمین نے بیانیہ"گام دوم" اور انقلاب کے محاذ کو سنبھالنے کا حکم جاری فرمایا، اس نے خاموشی اور محنت سے ہمت کے آستینوں کو بلند کرتے ہوئے انقلاب کے ساتھیوں کے ساتھ باقاعدہ نشستیں کر کے ولی فقیہ کے حکم کو زمین پرپڑے رہنے نہیں دیا اور اس پر عمل کرایا۔

5. علم و اجتہاد کی بلندی پر، ایسا نابغہ جس کے پاس کرسی اور لقب نہیں۔
وہ بلند مرتبہ مجتہد ہے جس کی ذہانت، صلاحیت اور اجتہاد کی اصالت پر حوزہ کے بڑے بڑے فقہاء نے گواہی دی ہے۔ وہی استاد جس نے والد محترم کے مشورے پر کتاب "عروۃ الوثقی" پر حاشیہ لکھا، لیکن قم میں اپنے سب سے رونق والے درس خارج میں بھی میز اور کرسی سے گریزاں رہتا تھا تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ علم کی محفل کا خاکسار ہے۔

6. شہرت سے بھاگنے والا اور آقازادگی کی عادت سے بیزار۔
وہ بزرگ کہ حوزہ کی بلند سطحوں پر ۱۳۰۰ شاگرد ہونے کے باوجود شہر میں کسی کلاس کا کوئی اعلامیہ نہیں لگنے دیا؛ وہ خود نمائی اور دکھاوے سے اتنا دور رہا کہ ان تمام سالوں میں اس کی شائع شدہ تصویریں اور آوازیں ایک ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہے۔

7. خدا پرستی میں سخت اور دنیاوی منصب سے بھاگنے والا۔
ان دنوں جب خبرگان کے نمائندے والد سے ملنے آتے تھے، وہ گھر سے باہر نہیں آتے تھے کہ کہیں ان کا سامنا نہ ہو جائے اور ذرا برابر بھی دنیا طلبی کا شائبہ پیدا نہ ہو۔ وہ اپنے والد سے اتنی عاشقانہ محبت رکھتا تھے کہ جب اس سے رہبر ہونے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو غمگینی سے کہا: " واللہ العلی العظیم کی قسم، میرے ہاتھ کی پشت کی رگوں میں بھی رہبری کا تصور نہیں ہے"۔

8. زاہد اور سادہ زیست
وہ مرد جس نے والد کے پرانے گھر کے دو تین کمروں میں بہت سادہ آسمانی رشتہ بنایا، اس کی چادر اور قبا برسوں نئی نہیں ہوئی اور آستینوں کے کنارے گھس گئے، اس اور اس کی شہید بیوی کے پُرفضا گھر میں روٹی اسراف کر کے نہیں پھینکا جاتا تھا اور خریداری اتنی ہوتی تھی جتنی ضرورت تھی۔ اس نے مادیات کو لکیر کھینچ کر الگ کر دیا تاکہ علوی زہد اور تقویٰ کو عمل میں معنی عطا کرے۔

9. فریب کھانے والے دشمنوں کے لیے بھی خیر خواہ۔
گھات لگائے بیٹھے دشمنوں کے اربوں ڈالر کے جھوٹ اور بہتان کے سامنے وہ مسکرا دیتے اور جھوٹ بولنے والوں کے لیے حلال روزی کی دعا کرتے۔

10. امت اور لوگوں کے درمیان شفیق رفیق۔
خواہ وہ وقت جب وہ قم کے دور دراز دیہاتوں میں گمنام تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے اور وہاں کے لوگوں کے دل جیت لیے؛ خواہ حج کا سفر تھا جہاں اس کا میدانِ منیٰ اور عرفات عام لوگوں کے ساتھ گزارے؛ اور خواہ سرپل ذہاب کے زلزلے کے تلخ دن تھے، جب وہ والد کے ساتھ مل کر کیچڑ اور مٹی میں لوگوں کے خیموں میں گئے اور لوگوں کی چٹائیوں کی حرمت کو محفوظ رکھا۔
11. محروموں کی امید اور مشکل دنوں کا مجاہد۔
اعلیٰ جہادی روح کے مالک وہ مرد جس نے کورونا کے مشکل دنوں میں اپنے شاگردوں کو بیماروں کے لیے جوس نکالنے اور محروموں کی مدد کے لیے ترغیب کیا اور آج اس کی رہنمائی میں ہزاروں ضرورت مند خاندان اور غیر ایرانی طلبہ کرامت اور امداد کا مزہ چکھ رہے ہیں۔
ایرانِ اسلامی نے شوق اور ایمان سے بھرے دل کے ساتھ انقلاب کے دوسرے مرحلے میں اپنے نئے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔ اس خدائی تحریک کا جھنڈا آج اس کے قابلِ اعتماد، امین، بہادر اور جانباز ہاتھوں میں ہے۔
قائم اور استوار رہے یہ فرزند رہبر
اشتراک گذاری:
نظرات

اطــلاعــات تــمــــاس:

دفـتـر و ساختـمان آموزشـی: قم، خیابان معلم ، بلوار جعفر طیار ، نبش کوچه چهارم 

کدپستی: 3715696797

 

آموزش حضوری و مجازی (ساعت13 تا 18):

کارشناس آموزش مجازی : 02537741377
ارتباطات و روابــط عمــومــی: 09906265794