تاریخ انتشار: 1405/03/01 تعداد بازدید: 11
شارح: استاد سيد جواد نقوی
تدوین: سید محمد حسن رضوی
بدایۃ الحکمۃ آیت اللہ سید محمد حسین طباطبائیؒ کی مایہ ناز کتاب ہے جوکہ حکمتِ متعالیہ اور فلسفہِ اسلامی کی تدریس کے لیے طویل عرصہ سے حوزہ علمیہ کے نصاب کا حصہ ہے۔
تدوین: سید محمد حسن رضوی
بدایۃ الحکمۃ آیت اللہ سید محمد حسین طباطبائیؒ کی مایہ ناز کتاب ہے جوکہ حکمتِ متعالیہ اور فلسفہِ اسلامی کی تدریس کے لیے طویل عرصہ سے حوزہ علمیہ کے نصاب کا حصہ ہے۔
علامہ طباطبائیؒ بشرطِ لا کی دو اصطلاحات کا ذکر کرتے ہیں جن میں سے ایک اصطلاح اعتباراتِ ماہیت کی قسیم قرار پاتی ہے، جبکہ دوسری اصطلاح ہماری اس بحث سے خارج ہے:
پہلی اصطلاح:
ماہیت کو یا تو بطورِ مشروط ملاحظہ کیا جاتا ہے یا غیر مشروط۔ جب ماہیت کو مشروط صورت میں لحاظ کیا جائے تو وہ یا تو شیءِ وجودی کے ساتھ مشروط ہو گی جسے اصطلاحاً بشرطِ شیء کہتے ہیں یا شیءِ عدمی کے ساتھ مشروط ہو گی جسے بشرطِ لا کہتے ہیں۔ پس بشرط لا سے مراد ماہیت کو ہر اس امر سے عاری اور خالی قرار دینا ہے جو اس کا غیر ہے اور اس پر عارض ہوتا ہے۔ بشرطِ لا کے ذریعے ذاتِ ماہیت سے ان اشیاء کے عدم کی قید لگائی جاتی ہے جو اس کی ذات سے خارج شمار ہوتی ہیں۔لہٰذا بشرطِ لا کو ماہیت ِمجردہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
دوسری اصطلاح:
بشرطِ لا کی دوسری اصطلاح سے مراد ماہیت کے تکرار ہونے کا انسداد ہے۔ اس صورت میں ماہیت اپنے ماسوا کے عدم سے مشروط قرار پائے گی اور ماہیت کو مکمل طور پر مجرد لحاظ کیا جائے گا، کیونکہ ماہیت کو تنہا ملاحظہ کرتے ہوئے اس کے ہمراہ چیز کو اس پر زائد قرار دیا جاتا ہے نہ کہ اس کا جزء۔ اس لحاظ سے یہ وہی ماہیت کہلائے گی جسے ماہیت مِن حَيث هي ليست إلّا هي کہا گیا تھا۔ پس اس صورت میں ماہیت کے غیر کو اس پر عارض اور زائد شمار کیا جائے گا، نہ کہ اس کا جزء۔
ماہیت مِن حَيث هي ليست إلّا هي میں ان تمام چیزوں کی نفی کی جاتی ہے جو اس ماہیت کا ماسوا شمار ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شیء ماہیت کے ساتھ موجود ہو تو اسے ماہیت کا جزء قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ اسے اس پر زائد اور اضافی شمار کیا جائے گا۔ ماہیت کے سوا کوئی شیء اس کی ذات میں دخیل نہیں ہوی سکتی۔ اس اعتبار کو ماہیت ِمجردہ یا ماہیت بشرطِ لا کہا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر ماہیت کے لیے وہ تمام چیزیں مہیا ہو جائیں جن کے عدم سے ماہیت کو مقید کیا گیا تھا تو بھی ماہیت کا ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہو گا، مثلاً گھر میں ایک شخص بیٹھا ہے جس نے شرط رکھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں گاڑی داخل نہیں ہونے دے گا۔ اگر اس کے گھر کے باہر گاڑی آئے تو بھی اسے اس گاڑی سے کوئی سروکار نہیں ہے کیونکہ وہ اسے گھر میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ اس کے برعکس اگر اس کے گھر کوئی نا آشنا مہمان آ جائے تو وہ اسے اپنے مہمان خانہ میں بٹھا کر اس کی احوال پرسی کرے گا کیونکہ اس نے نا واقف مہمان کے گھر میں داخل نہ ہونے کی شرط نہیں رکھی تھی۔ اسی طرح اس مطلب کو باپ کا نافرمان بیٹے کو گھر سے بے دخل کرنے سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بیٹا گھر کا ہی فرد تھا لیکن جب باپ نے اسے گھر سے باہر نکال دیا تو اب وہ دروازہ کھٹکھٹاتا بھی رہے تب بھی گھر میں داخل ہونے کی اسے اجازت نہیں مل سکتی۔ وہ دروازے پر بیٹھا رہے یا گلی میں پھرتا رہے ، اس سے باپ کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ ممکن ہے یہاں اسے گھر میں داخل نہ ہونے دیں لیکن گھر سے باہر اس کے لیے کھانے پینے کا اہتمام کر دیا جائے۔ گویا اسے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں ماہیت کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جا سکتا اور ماہیت سے باہر ہی تمہاری ساتھ حُسن سلوک روا رکھا جائے گا۔ اسے ذاتِ ماہیت پر محمول کرنے کو بشرطِ لا کہا جائے گا۔
ماہیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ماہیت کا ایک اندرونی علاقہ ہے جہاں صرف جنس و فصل یا اجزائے حدّی رہ سکتے ہیں۔ ماہیت کا اندرونی علاقہ فقط ذاتیات کے ساتھ مختص ہے جسے اس کے غیر کے نہ ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔ ماہیت کو اس کے غیر کے عدم سے مشروط کرنا ماہیت بشرطِ لا کہلاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر ماہیت کا غیر آ جائے تو ماہیت کا موقف یہ ہو گا کہ مجھے اس غیر سے کسی قسم کا کوئی سروکار نہیں ہے ، کیونکہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اندرونی فضاء میں کوئی غیر نہیں آ سکتا۔ اس لیے ذاتِ ماہیت میں اس کے غیر کے داخل ہونے کی اصلاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ ماہیت کے غیر کو ماہیت کی جانب سے اس ممانعت کا علم نہ ہو اور وہ ذاتِ ماہیت میں آ جائے تو بھی وہ غیر ہی شمار ہو گا اور اس کو داخل ہونے سے منع کیا جائے گا۔ بعض اوقات تو ماہیت کے اندورنی ذاتی جزء کو بھی ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے۔
ماہیت مِن حَيث هي ليست إلّا هي میں ان تمام چیزوں کی نفی کی جاتی ہے جو اس ماہیت کا ماسوا شمار ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شیء ماہیت کے ساتھ موجود ہو تو اسے ماہیت کا جزء قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ اسے اس پر زائد اور اضافی شمار کیا جائے گا۔ ماہیت کے سوا کوئی شیء اس کی ذات میں دخیل نہیں ہوی سکتی۔ اس اعتبار کو ماہیت ِمجردہ یا ماہیت بشرطِ لا کہا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر ماہیت کے لیے وہ تمام چیزیں مہیا ہو جائیں جن کے عدم سے ماہیت کو مقید کیا گیا تھا تو بھی ماہیت کا ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہو گا، مثلاً گھر میں ایک شخص بیٹھا ہے جس نے شرط رکھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں گاڑی داخل نہیں ہونے دے گا۔ اگر اس کے گھر کے باہر گاڑی آئے تو بھی اسے اس گاڑی سے کوئی سروکار نہیں ہے کیونکہ وہ اسے گھر میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ اس کے برعکس اگر اس کے گھر کوئی نا آشنا مہمان آ جائے تو وہ اسے اپنے مہمان خانہ میں بٹھا کر اس کی احوال پرسی کرے گا کیونکہ اس نے نا واقف مہمان کے گھر میں داخل نہ ہونے کی شرط نہیں رکھی تھی۔ اسی طرح اس مطلب کو باپ کا نافرمان بیٹے کو گھر سے بے دخل کرنے سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بیٹا گھر کا ہی فرد تھا لیکن جب باپ نے اسے گھر سے باہر نکال دیا تو اب وہ دروازہ کھٹکھٹاتا بھی رہے تب بھی گھر میں داخل ہونے کی اسے اجازت نہیں مل سکتی۔ وہ دروازے پر بیٹھا رہے یا گلی میں پھرتا رہے ، اس سے باپ کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ ممکن ہے یہاں اسے گھر میں داخل نہ ہونے دیں لیکن گھر سے باہر اس کے لیے کھانے پینے کا اہتمام کر دیا جائے۔ گویا اسے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں ماہیت کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جا سکتا اور ماہیت سے باہر ہی تمہاری ساتھ حُسن سلوک روا رکھا جائے گا۔ اسے ذاتِ ماہیت پر محمول کرنے کو بشرطِ لا کہا جائے گا۔
ماہیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ماہیت کا ایک اندرونی علاقہ ہے جہاں صرف جنس و فصل یا اجزائے حدّی رہ سکتے ہیں۔ ماہیت کا اندرونی علاقہ فقط ذاتیات کے ساتھ مختص ہے جسے اس کے غیر کے نہ ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔ ماہیت کو اس کے غیر کے عدم سے مشروط کرنا ماہیت بشرطِ لا کہلاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر ماہیت کا غیر آ جائے تو ماہیت کا موقف یہ ہو گا کہ مجھے اس غیر سے کسی قسم کا کوئی سروکار نہیں ہے ، کیونکہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اندرونی فضاء میں کوئی غیر نہیں آ سکتا۔ اس لیے ذاتِ ماہیت میں اس کے غیر کے داخل ہونے کی اصلاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ ماہیت کے غیر کو ماہیت کی جانب سے اس ممانعت کا علم نہ ہو اور وہ ذاتِ ماہیت میں آ جائے تو بھی وہ غیر ہی شمار ہو گا اور اس کو داخل ہونے سے منع کیا جائے گا۔ بعض اوقات تو ماہیت کے اندورنی ذاتی جزء کو بھی ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے۔
تکرر ماہیت کی دو تحلیلی صورتیں
ذاتیاتِ ماہیت کو ایک بڑے تھیلے سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس میں بہت سی چیزیں ڈالنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ اس تھیلے میں اتنی چیزیں ڈالی جاتی ہیں کہ اس میں مزید چیزوں کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ دوسری صورت یہ بنتی ہے کہ ضرورت کے مطابق تھیلے کو بھرا جائے اگرچے اس میں گنجائش باقی رہ جائے۔ چنانچہ مطلوبہ چیز ڈال کر تھیلے کا منہ بند کر دیا جائے جس کے بعد بند تھیلے میں باہر سے کوئی چیز نہ ڈالی جا سکے۔ البتہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اس تھیلے کو دیگر اشیاء کے ہمراہ ایک وسیع و عریض تھیلے میں منتقل کر دیا جائے۔ لیکن اس بند تھیلے میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔
ماہیت جوہریت اور جسمیت سے تشکیل پاتی ہے جس کے بعد اس کا دروازہ بند نہ کیا جائے تو اس میں مزید ذاتیات، جیسے نامیت، حیوانیت اور ناطقیت شامل ہو سکتی ہیں یہاں تک کہ گنجائش ختم ہونے پر اس کا دروازہ خود بخود بند ہو جائے۔ البتہ دوسری صورت کے مطابق گنجائش کے باوجود حسب ضرورت اضافہ کیا جائے اور جوہریت و جسمیت کو ماہیت ِتام قرار دیتے ہوئے اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو علت ِفاعلی سے فقط وہ ماہیت وجود میں آئے گی جس نے اپنی ذاتیات کے سلسلے کو جوہریت و جسمیت پر روک دیا تھا، مثلاً جمادات۔ اگر جوہریت و جسمیت کے ساتھ نامیت کا ضمیمہ کر کے دروازہ بند کیا گیا تھا تو علت ِفاعلی کے ایجاد کرنے سے ماہیت ِنباتی متحقق ہو گی۔ اسی طرح جسمیت، نامیت کے بعد حیوانیت تک پہنچ کر دروازہ بند کر دینے سے حیوان وجود میں آتا ہے۔ حیوانیت کے بعد فقط دو راہیں ہیں:
۱۔ یا تو ماہیت کا دروازہ کھلا رکھا جائے تاکہ مزید ذاتیات داخل ہو سکیں۔
۲۔ یا پھر ماہیت کا دروازہ بند کر دیا جائے۔
دوسری صورت میں ناطقیت ماہیت ِحیوان کا جزء نہیں کہلائے گی۔ البتہ اگر اس کا دروازہ کھلا رکھا جائے اور ناطقیت کو بھی داخل کر دیا جائے تو ذات مکمل ہو جائے گی۔ اس کے بعدوجود میں آنے والی ماہیت کا خود بخود دروازہ بند ہو جائے گا، کیونکہ ناطقیت کے بعد کوئی اور ذاتی باقی نہیں رہتا جو اس میں شامل ہو سکے۔ یہ ماہیت ِتام ماہیت ِانسان کہلاتی ہے۔
ماہیت جوہریت اور جسمیت سے تشکیل پاتی ہے جس کے بعد اس کا دروازہ بند نہ کیا جائے تو اس میں مزید ذاتیات، جیسے نامیت، حیوانیت اور ناطقیت شامل ہو سکتی ہیں یہاں تک کہ گنجائش ختم ہونے پر اس کا دروازہ خود بخود بند ہو جائے۔ البتہ دوسری صورت کے مطابق گنجائش کے باوجود حسب ضرورت اضافہ کیا جائے اور جوہریت و جسمیت کو ماہیت ِتام قرار دیتے ہوئے اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو علت ِفاعلی سے فقط وہ ماہیت وجود میں آئے گی جس نے اپنی ذاتیات کے سلسلے کو جوہریت و جسمیت پر روک دیا تھا، مثلاً جمادات۔ اگر جوہریت و جسمیت کے ساتھ نامیت کا ضمیمہ کر کے دروازہ بند کیا گیا تھا تو علت ِفاعلی کے ایجاد کرنے سے ماہیت ِنباتی متحقق ہو گی۔ اسی طرح جسمیت، نامیت کے بعد حیوانیت تک پہنچ کر دروازہ بند کر دینے سے حیوان وجود میں آتا ہے۔ حیوانیت کے بعد فقط دو راہیں ہیں:
۱۔ یا تو ماہیت کا دروازہ کھلا رکھا جائے تاکہ مزید ذاتیات داخل ہو سکیں۔
۲۔ یا پھر ماہیت کا دروازہ بند کر دیا جائے۔
دوسری صورت میں ناطقیت ماہیت ِحیوان کا جزء نہیں کہلائے گی۔ البتہ اگر اس کا دروازہ کھلا رکھا جائے اور ناطقیت کو بھی داخل کر دیا جائے تو ذات مکمل ہو جائے گی۔ اس کے بعدوجود میں آنے والی ماہیت کا خود بخود دروازہ بند ہو جائے گا، کیونکہ ناطقیت کے بعد کوئی اور ذاتی باقی نہیں رہتا جو اس میں شامل ہو سکے۔ یہ ماہیت ِتام ماہیت ِانسان کہلاتی ہے۔
معقولات کو محسوسات سے تشبیہ دیتے ہوئے احتیاط
یہاں معقولات کو محسوسات سے تشبیہ دیتے ہوئے اس لیے بیان کیا گیا ہے کیونکہ سمجھانے کا یہ ایک مؤثر اسلوب ہے۔ البتہ اس اسلوب سے بعض اوقات ایک نقص سامنے آتا ہےکہ انسانی ذہن حسی مثالوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور معقولات کو محسوسات پرقیاس کرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے معقولِ اصلی کی طرف رجوع کرنا اس کے لیے دشوار ہو جاتا ہے۔ عقول کا ادراک محسوسات کی نسبت دشوار اور کٹھن ہوتا ہے جس کی بنا پر ذہن محسوس سے مانوسیت کی وجہ سے اسی پر اکتفا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ معقولات کو سمجھانے کے لیے محسوسات کا سہارا لیا جائے تو مشبہ بہ کے ذریعے جب مشبہ واضح ہو جائے تو فورا مشبہ بہ کو ترک کے تنہا مشبہ کو آگے لے کر جائیں۔ ورنہ حقیقت کا صحیح فہم حاصل نہیں ہو سکے گا۔ پس تحلیلی طور پر ماہیت کی دو صورتیں بنتی ہیں:
پہلی صورت:
ماہیت اپنی ذاتیات کے ذریعے تکررِ مفہومی پیدا کر لیتی ہےجس کے مطابق ذاتیات کے باہم ملنے سے عالم ِمفاہیم میں ایک مفہومِ ماہوی تشکیل پاتا ہے، مثلاً مفہومِ انسان کے لیے جوہریت، جسمیت، نامیت، حیوانیت اور ناطقیت جیسے مفاہیمِ ذاتیہ کے ملنے سے ماہیت ِانسان وجود میں آتی ہے۔ یہاں پہلا رکن جوہریت ہے جس کے حصول کے بعد بھی ذاتِ ماہیت قابلِ تکمیل رہتی ہے اور ماہیت کی تشکیل جاری رہتی ہے۔ جب جوہریت کے ساتھ جسمیت کو ضمیمہ کیا جاتا ہے تو ذات کے اندر دونوں کا مقام یکساں ہوتا ہے جن کے ملنے کے بعد ذاتِ ماہیت کا دروازہ کھلا رہے تو اس میں مزید ذاتیات داخل ہو جائیں گی، مثلاً نامیت اور حیوانیت کے ساتھ جب ناطقیت کا ضمیمہ ہوتا ہے توان ذاتیات کے جمع ہونے سے ذاتِ ماہیت مکمل ہوتی ہے جسے حدِّ انسان کہتے ہیں۔ ناطیقت کے بعد ذاتِ ماہیت کا دروازہ خود بخود بند ہو جاتا ہے کیونکہ اب اس میں کسی جزءِ ذاتی کے ضمیمہ کی گنجائش باقی نہیں بچتی۔ اس کے بعد ماہیت کے لیے جو بھی مفہوم لایا جائے گا، جیسے کاتب یا عالم وغیرہ وہ ذاتِ ماہیت سے خارج اور بیرون شمار ہو گا۔
دوسری صورت:
دوسری صورت کے مطابق تکررِ ماہیت کے اس سلسلے میں کسی بھی مرحلے پر ذات کا دروازہ بند کر دیا جائے، مثلاً جب جوہریت کے ساتھ جسمیت ضمیمہ ہو جائے تو وہیں اسے ماہیت ِتام قرار دے کر اس کا انسداد کر دیا جائے۔ اس صورت میں اس ذات میں مزید کوئی ذاتی داخل نہیں ہو سکتا۔ نامیت یا حیوانیت اگر بعد میں لائے جائیں تو وہ اس ذات کا جزء نہیں بنیں گے، بلکہ خارج از ذات رہیں گے۔ البتہ انہیں اس طرح ضمیمہ کیا جا سکتا ہے کہ جوہریت و جسمیت مجموعی طور پر ایک جزءِ ماہیت بن جائیں اور نامی یا حیوان جزءِ دیگر، اور ان دونوں سے مل کر ایک تیسری ماہیت تشکیل پا جائے۔ لیکن یہ نئے مفاہیم اس اصلی ماہیت کا حصہ نہیں بن سکتے جس کا دروازہ بند کیا جا چکا ہے اور اس میں مزید کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
بشرطِ لا کی دو اصطلاحات میں فرق
مذکورہ مثالوں سے بشرطِ لا کی دونوں اصطلاحات میں فرق روشن ہو جاتا ہے۔ بشرطِ لا کی پہلی اصطلاح کے مطابق ذاتِ ماہیت میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی، جبکہ دوسری اصطلاح کے مطابق کسی ذاتی شیء کو بھی بشرطِ لا قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں شیءِ ذاتی کو ماہیت سے خارج تصور کیا جائے گا، کیونکہ بشرطِ لا کی دوسری اصطلاح کی رو سے اگر ماہیت کے پاس اس کا غیر آ جائے تو وہ غیر اس ماہیت کے لیے جنس و فصل بننے کی بجائے مادہ یا صورت بن جائے گا۔ غیر جنس و فصل بن کر ماہیت کی ذات میں داخل نہیں ہو سکتا۔
لہٰذا ایک بشرطِ لا وہ ہے جس میں جنس و فصل کی نفی نہیں ہوتی اور جس کے عدم کی شرط لگائی گئی ہے وہ ذات میں بہرحال بطورِ جزء موجود رہتا ہے۔ جبکہ دوسرا بشرطِ لا ایسا ہے جو ماہیت کی جنس و فصل کو مادہ و صورت میں بدل دیتا ہے لیکن انہیں جنس و فصل کے عنوان سے ذاتیات میں داخل نہیں ہونے دیتا۔
لہٰذا ایک بشرطِ لا وہ ہے جس میں جنس و فصل کی نفی نہیں ہوتی اور جس کے عدم کی شرط لگائی گئی ہے وہ ذات میں بہرحال بطورِ جزء موجود رہتا ہے۔ جبکہ دوسرا بشرطِ لا ایسا ہے جو ماہیت کی جنس و فصل کو مادہ و صورت میں بدل دیتا ہے لیکن انہیں جنس و فصل کے عنوان سے ذاتیات میں داخل نہیں ہونے دیتا۔
جنس و فصل سے مادہ و صورت تک کا سفر
مرحلہ اولیٰ میں اصالت وجود کی مباحث کے دوران یہ ثابت کیا تھا کہ وجود کا کوئی جزء نہیں ہوتا اور نہ ہی وجود کسی شیء کا جزء بنتا ہے۔ پس وجود بسیط ہوتا ہے جو نہ جزءِ تحلیلی رکھتا ہے، نہ جزءِ خارجی اور نہ ہی جزءِ صناعی۔ بساطت ِوجود پر بہترین دلیل وجود سے جنس و فصل کی نفی کا اثبات ہے جس سے ان تمام اجزاء سے نفی ثابت ہو جاتی ہے۔ ایک استدلال سے تمام اقسام کی نفی کی بنیادی وجہ جنس و فصل کا مادہ و صورت کی حیثیت رکھنا ہے۔ مادہ اور صورت کی ترکیب سے جسم تشکیل پاتا ہے۔ لہٰذا جب جنس و فصل منتفی ہو جائیں تو مادہ و صورت بدرجہ ِاولیٰ منتفی قرار پائیں گے ۔ جب مادہ و صورت کا وجود نہیں ہوگا تو یقیناً جسم کا بھی وجود نہیں ہوگا، کیونکہ جسم مادہ و صورت ہی کی ترکیب کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پس جب جسم نہیں ہوگا تو مقدار بھی موجود نہیں ہو گی۔ لہٰذا وجود سے جنس و فصل کی نفی سے وجود سے تحلیلی، خارجی اور صناعی تمام قسم کے اجزاء کی نفی ثابت ہو جاتی ہے اور اس طرح وجود کا امر بسیط ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اس تمہید سے مقصود یہ ہے کہ ماہیات کے تکرر کو لا بشرط ملاحظہ کرنے کا مطلب اس کا دروازہ کھلا ہونا ہے جس کی وجہ سے کوئی دوسرا ذاتِ ماہیت میں داخل ہو کر اس کا جزء بن سکتا ہے۔ تکررِ ماہیات کو جب بشرطِ لا مدنظر رکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ذاتِ ماہیت کا دروازہ بند ہے اور اب کوئی دوسرا اس کا جزء نہیں بن سکتا۔ بلکہ کوئی دوسرا جزء آ کر فقط اس پر عارض ہو سکتا ہے اور ماہیت اس کا معروض بن سکتی ہے، مثلاً مفہومِ حیوان کو اگر لا بشرط رکھا جائے تو ناطقیت آ کر اس کا جزء بن جائے گی اور اس طرح ایک ماہیت تشکیل پائے گی۔ البتہ اگر اسے بشرطِ لا مدنظر رکھیں تو ماہیت کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے ناطقیت جزءِ ذاتی کے طور پر اس میں داخل نہیں ہو سکے گی اور ایک امر اضافی قرار پاتے ہوئے اس پر عارض ہو گی اور حیوانیت اس کا معروض قرار پائے گا۔ اس صورت میں حیوان جنس نہیں بلکہ مادہ اور ناطقیت صورت کہلائے گی۔
پس جنس و فصل ہی مادہ و صورت ہوتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ایک مفہوم کو لا بشرط ملاحظہ کیا جاتا ہے تو وہ جنس اور اسی مفہوم کو بشرطِ لا مدنظر رکھا جائے تو وہ مادہ کہلاتا ہے۔ اسی طرح فصل کو جب لا بشرط لحاظ کیا جائے تو فصل اور اگر بشرطِ لا مدنظر رکھا جائے تو یہی مفہوم صورت کہلاتا ہے۔ مادہ و صورت ذہنی ہوتے ہیں جو خارجی مادہ اور صورت سے انتزاع کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا خارج میں ان کا فرد موجود ہوتا ہے۔
اس تمہید سے مقصود یہ ہے کہ ماہیات کے تکرر کو لا بشرط ملاحظہ کرنے کا مطلب اس کا دروازہ کھلا ہونا ہے جس کی وجہ سے کوئی دوسرا ذاتِ ماہیت میں داخل ہو کر اس کا جزء بن سکتا ہے۔ تکررِ ماہیات کو جب بشرطِ لا مدنظر رکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ذاتِ ماہیت کا دروازہ بند ہے اور اب کوئی دوسرا اس کا جزء نہیں بن سکتا۔ بلکہ کوئی دوسرا جزء آ کر فقط اس پر عارض ہو سکتا ہے اور ماہیت اس کا معروض بن سکتی ہے، مثلاً مفہومِ حیوان کو اگر لا بشرط رکھا جائے تو ناطقیت آ کر اس کا جزء بن جائے گی اور اس طرح ایک ماہیت تشکیل پائے گی۔ البتہ اگر اسے بشرطِ لا مدنظر رکھیں تو ماہیت کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے ناطقیت جزءِ ذاتی کے طور پر اس میں داخل نہیں ہو سکے گی اور ایک امر اضافی قرار پاتے ہوئے اس پر عارض ہو گی اور حیوانیت اس کا معروض قرار پائے گا۔ اس صورت میں حیوان جنس نہیں بلکہ مادہ اور ناطقیت صورت کہلائے گی۔
پس جنس و فصل ہی مادہ و صورت ہوتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ایک مفہوم کو لا بشرط ملاحظہ کیا جاتا ہے تو وہ جنس اور اسی مفہوم کو بشرطِ لا مدنظر رکھا جائے تو وہ مادہ کہلاتا ہے۔ اسی طرح فصل کو جب لا بشرط لحاظ کیا جائے تو فصل اور اگر بشرطِ لا مدنظر رکھا جائے تو یہی مفہوم صورت کہلاتا ہے۔ مادہ و صورت ذہنی ہوتے ہیں جو خارجی مادہ اور صورت سے انتزاع کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا خارج میں ان کا فرد موجود ہوتا ہے۔
جنس و فصل کا مادہ و صورت ہونے کی وجہ
جنس و فصل کا مادہ و صورت کی حیثیت رکھنے کو بشرطِ لا کی دوسری اصطلاح کے تناظر میں بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ بالفرض جنس و فصل ہر دو سے جدا جدا مخاطب ہو کر کہا جائے کہ تم دونوں ذاتِ ماہیت میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ تم دونوں کے لیے ذاتِ ماہیت کے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔ ایسی صورت میں جنس و فصل ناراض ہو کر واپس نہیں جا سکتے، کیونکہ ماہیت انہی دو عناصر سے تشکیل پاتی ہے۔ لہٰذا یسی صورتحال میں جنس و فصل اپنا حلیہ تبدیل کریں گے اور مادہ و صورت کی شکل اختیار کر کے ماہیت سے تعلق قائم کر لیں گے۔ مادہ وہی جنس ہے اور صورت وہی فصل ہے۔ پس جب یہ کہا جاتا ہے کہ ماہیت از لحاظِ لا بشرط جنس و فصل اور از لحاظِ بشرطِ لا وہی جنس و فصل مادہ اور صورت کہلاتے ہیں تو اس سے مقصود یہی دوسری اصطلاح ہے جس کی وضاحت یہاں کی گئی ہے۔
ماہیت بشرطِ لا کے دو معنی
مرحوم علامہ ؒ نے ماہیت بشرطِ لا یعنی اعتبارِ دوم کے دو معنی بیان کیے ہیں:
بشرطِ لا کا پہلا معنی:
دیگر اعتبارات کا قسیم یہ وہی معنی ہے جو اس فصل میں مقصود ہے۔ ماہیت کی تمام ذاتیات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جب اس کا تمام عرضی و خارجی امور سے موازنہ کیا جاتا ہے تو ماہیت بلحاظِ ذات عدم یعنی لا کے ساتھ مقید ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے ماہیت کو بشرطِ لا اور ماہیت من حیث هي اور لیست إِلّا هي سے تعبیر کیا جاتاہے جس کا مطلب ماہیت بحسب ِذات فقط خودہونا اور اپنے علاوہ کچھ نہ ہونا ہے۔
بشرطِ لا کا دوسرا معنی:
اسے اعتباراتِ ثلاثہ میں سے اعتبارِ دوم کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے جس کے مطابق ذاتِ ماہیت کا فقط غیر از ماہیت امور کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کا ہراس چیز کے عدم سے موازانہ کیا جاتا ہے جو ماہیت سے خارج ہے، خواہ وہ چیز ماہیت کے لیے ذاتی ہو یا غیر ذاتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر خارج از ماہیت چیز اس کے ساتھ منضم ہونا چاہے تو اس کا ضم ہونا ممکن ہے لیکن وہ چیز ماہیت کا جزءِ ذات نہیں بنے گی، بلکہ اس کے لیے معروض ہونے کی حیثیت اختیار کرتے ہوئے خارج از ذات شمار ہو گی۔ یہ ماہیت اس چیز کے لیے مادہ اور وہ چیز اس کے لیے صورت کی بن جائے گی۔ بشرطِ لا اور لا بشرط کے ذریعے جنس و فصل اور مادہ و صورت کے درمیان بیان کردہ فرق سے یہی اصطلاح یعنی بشرطِ لا بمعنیٰ دوم مقصود ہوتا ہے نہ کہ بشرطِ لا بمعنی ِاوّل۔
پس بشرطِ لا بمعنی اوّل میں ماہیت کو اس کے ذاتیات سے خارج تمام امور کے عدم سے مقید کیا جاتا ہے جبکہ بشرطِ لا بمعنی دوم میں ماہیت کو ہر اس چیز کے عدم سے مقید کیا جاتا ہے جسے اس کے ساتھ ضمیمہ کر دیا بھی آ جائے تب بھی وہ ماہیت پر قابلِ حمل نہیں ہو گی، کیونکہ ماہیت اس کے عدم کے ساتھ مقید ہے۔
پس بشرطِ لا بمعنی اوّل میں ماہیت کو اس کے ذاتیات سے خارج تمام امور کے عدم سے مقید کیا جاتا ہے جبکہ بشرطِ لا بمعنی دوم میں ماہیت کو ہر اس چیز کے عدم سے مقید کیا جاتا ہے جسے اس کے ساتھ ضمیمہ کر دیا بھی آ جائے تب بھی وہ ماہیت پر قابلِ حمل نہیں ہو گی، کیونکہ ماہیت اس کے عدم کے ساتھ مقید ہے۔
کلی طبیعی کا معنی اور مصداق
کلی کا لغوی کثیر پر منطبق ہونا ہے جیساکہ علم منطق میں بیان ہوا ہے۔ کلی کے مقابلے میں جزئی آتا ہے جو کثیر پر منطبق نہیں ہوتا۔ لفظ ِکلی مشترکِ لفظی ہے جس کا ایک معنی ذات یا طبیعت ہے۔ اس اصطلاح کے مطابق ایک ماہیت کو کلی کہتے ہیں جسے کلی کہنے کی وجہ اس کا کثیرین پر منطبق ہونا نہیں ہے، بلکہ اسے اس لیے کلی کہتے ہیں کیونکہ وہ ایک طبیعت ہے اور وصف ِکلیت سے متصف ہو سکتی ہے۔ لہٰذا کلی سے یہاں مراد طبیعت ِشیء ہے، جیسے انسان یا حیوان۔ طبیعت اور کلیت آپس میں موصوف و صفت ہیں۔ طبیعت موصوف اور کلیت اس کی صفت ہے جس میں تین اعتبارات پائے جاتے ہیں:
۱۔ ذاتِ موصوف
۲۔ ذاتِ صفت
۳۔ موصوف ہمراہِ صفت
اگر ذاتِ موصوف ایک طبیعت ہو تو اسے کلی کہتے ہیں۔ ذاتِ صفت بھی مفہومِ کلیت کا مدلول ہے، یعنی موضوع لہ بھی کلی ہے۔ جب طبیعت وصف ِکلیت سے متصف ہو تو بھی اسے اصطلاحاً کلی کہتے ہیں۔ اس طرح سے کلی کے تین معنی قرار پاتے ہیں:
۱۔ کلی منطقی: اس سے مراد خود مفہومِ کلی ہے۔
۲۔ کلی طبیعی: اس سے مراد طبیعت ِشیء ہے، جیسے طبیعت ِانسان، طبیعت ِفرس، طبیعت ِکتاب وغیرہ۔
۳۔ کلی ِعقلی: اس سے مراد طبیعت کا کلی ہوتے ہوئے صفت ِکلیت سے متصف ہونا ہے۔ یہ کلی فقط عقل میں موجود ہوتی ہے جس کا خارج از ذہن کوئی وجود نہیں ہوتا، مثلاً طبیعت ِ انسان جب مفہومِ کلیت سے متصف ہو تو ایسا انسان خارج از ذہن موجود نہیں ہوتا۔
۱۔ ذاتِ موصوف
۲۔ ذاتِ صفت
۳۔ موصوف ہمراہِ صفت
اگر ذاتِ موصوف ایک طبیعت ہو تو اسے کلی کہتے ہیں۔ ذاتِ صفت بھی مفہومِ کلیت کا مدلول ہے، یعنی موضوع لہ بھی کلی ہے۔ جب طبیعت وصف ِکلیت سے متصف ہو تو بھی اسے اصطلاحاً کلی کہتے ہیں۔ اس طرح سے کلی کے تین معنی قرار پاتے ہیں:
۱۔ کلی منطقی: اس سے مراد خود مفہومِ کلی ہے۔
۲۔ کلی طبیعی: اس سے مراد طبیعت ِشیء ہے، جیسے طبیعت ِانسان، طبیعت ِفرس، طبیعت ِکتاب وغیرہ۔
۳۔ کلی ِعقلی: اس سے مراد طبیعت کا کلی ہوتے ہوئے صفت ِکلیت سے متصف ہونا ہے۔ یہ کلی فقط عقل میں موجود ہوتی ہے جس کا خارج از ذہن کوئی وجود نہیں ہوتا، مثلاً طبیعت ِ انسان جب مفہومِ کلیت سے متصف ہو تو ایسا انسان خارج از ذہن موجود نہیں ہوتا۔
مصادیق کلی طبیعی کے بارے اقوال
ماہیت کے اعتبارات واضح ہو جانے کے بعد یہ تعین کرنا ہے کہ ان میں سے کلی طبیعی کون سی ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل متعدد اقوال پائے جاتے ہیں:
پہلا قول۔ بشرطِ لا قسمی: بعض محققین کے مطابق کلی طبیعی ماہیت بشرطِ لا قسمی ہے۔ علامہ طباطبائیؒ نے اس قول کو رد کرتے ہوئے کلی طبیعی لا بشرطِ مقسمی کو قرار دیا ہے، جیساکہ دیگر حکماء کا مختار بھی لا بشرطِ مقسمی ہے۔
دوسرا قول۔ ماہیت ِمہملہ: اس قول کے مطابق کلی طبیعی ماہیت ِمہملہ ہے جس سے مراد ایسی ماہیت ہے جس میں کسی قسم کا لحاظ نہیں پایا جاتا، نہ ماہیت ِمقیس الی الغیر اور نہ ماہیت ِغیر مقیس الی الغیر کا۔ ماہیت ِمہملہ ہر قسم کی قید ِلحاظ سے عاری ہوتی ہے جسے کلی طبیعی کہا جائے گا۔ البتہ جب ماہیت ِمہملہ کو متعلق بہ کے اعتبار سے ملاحظہ کیا جائے تو ماہیت ِمہملہ مقسم قرار پاتی جس کی دو قسمیں بنتی ہیں:
۱۔ مقیس اِلی الغیر
۲۔ غیر مقیس اِلی الغیر
ماہیت مقیس الی الغیر کی مزید تین قسمیں بنتی ہیں:
۱۔ ماہیت مخلوطہ
۲۔ ماہیت مجردہ
۳۔ ماہیت مطلقہ
اس تین اقسام کا مقسم یعنی ماہیت ِمقیس الی الغیر چوتھی قسم شمار ہو گی۔ اس کے مقابلے میں ماہیت کی پانچویں قسم آتی ہے جو آغاز سے مقیس الی الغیر نہیں ہے، کیونکہ اس کا سَرے سے اپنے غیر کے ساتھ موازنہ نہیں کیا گیا۔ چھٹی قسم مقیس الی الغیر اور غیر مقیس الی الغیر کا مقسم یعنی ماہیت ِمہملہ قرار پاتی ہے۔ اس ماہیت ِمہملہ کو جب غیر کی جہت سے ملاحظہ کیا جاتا ہے تویہ ماہیت یا تو مخلوطہ ہوتی ہے یا ماہیت مجردہ ہوتی یا ماہیت ِمطلقہ۔
پہلا قول۔ بشرطِ لا قسمی: بعض محققین کے مطابق کلی طبیعی ماہیت بشرطِ لا قسمی ہے۔ علامہ طباطبائیؒ نے اس قول کو رد کرتے ہوئے کلی طبیعی لا بشرطِ مقسمی کو قرار دیا ہے، جیساکہ دیگر حکماء کا مختار بھی لا بشرطِ مقسمی ہے۔
دوسرا قول۔ ماہیت ِمہملہ: اس قول کے مطابق کلی طبیعی ماہیت ِمہملہ ہے جس سے مراد ایسی ماہیت ہے جس میں کسی قسم کا لحاظ نہیں پایا جاتا، نہ ماہیت ِمقیس الی الغیر اور نہ ماہیت ِغیر مقیس الی الغیر کا۔ ماہیت ِمہملہ ہر قسم کی قید ِلحاظ سے عاری ہوتی ہے جسے کلی طبیعی کہا جائے گا۔ البتہ جب ماہیت ِمہملہ کو متعلق بہ کے اعتبار سے ملاحظہ کیا جائے تو ماہیت ِمہملہ مقسم قرار پاتی جس کی دو قسمیں بنتی ہیں:
۱۔ مقیس اِلی الغیر
۲۔ غیر مقیس اِلی الغیر
ماہیت مقیس الی الغیر کی مزید تین قسمیں بنتی ہیں:
۱۔ ماہیت مخلوطہ
۲۔ ماہیت مجردہ
۳۔ ماہیت مطلقہ
اس تین اقسام کا مقسم یعنی ماہیت ِمقیس الی الغیر چوتھی قسم شمار ہو گی۔ اس کے مقابلے میں ماہیت کی پانچویں قسم آتی ہے جو آغاز سے مقیس الی الغیر نہیں ہے، کیونکہ اس کا سَرے سے اپنے غیر کے ساتھ موازنہ نہیں کیا گیا۔ چھٹی قسم مقیس الی الغیر اور غیر مقیس الی الغیر کا مقسم یعنی ماہیت ِمہملہ قرار پاتی ہے۔ اس ماہیت ِمہملہ کو جب غیر کی جہت سے ملاحظہ کیا جاتا ہے تویہ ماہیت یا تو مخلوطہ ہوتی ہے یا ماہیت مجردہ ہوتی یا ماہیت ِمطلقہ۔
نظرات



