منوی اصلی

امام باقر علیہ السلام کے مکتب فکر میں مثالی اور ممتاز شاگردوں نے پرورش پائی تھی

تاریخ انتشار: 1405/03/03      تعداد بازدید: 2
امام باقر علیہ السلام کے مکتب فکر میں مثالی اور ممتاز شاگردوں نے پرورش پائی تھی
امام باقر علیہ السلام کے مکتب فکر میں مثالی اور ممتاز شاگردوں نے پرورش پائی تھی ان میں سے کچھ افراد یہ ہیں:
 
ڈاکٹر محمد لطیف مطہری کچوروی قم المقدسہ
امام باقر علیہ السلام کے مکتب فکر میں مثالی اور ممتاز شاگردوں نے پرورش پائی تھی ان میں سے کچھ افراد یہ ہیں:
1۔ ابان بن تغلب: ابان نے تین اماموں کی خدمت میں حاضری دی، چوتھے امام، پانچویں امام اور چھٹے امام۔ ابان کی فقہی منزلت کہ وجہ سے ہی امام باقر علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ مدینہ کی مسجد میں بیٹھو اور لوگوں کے لئے فتوی دو تاکہ لوگ ہمارے شیعوں میں تمہاری طرح کے میرے دوست دار کو دیکھیں۔
2۔ زراہ ابن اعین: امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں: ابو بصیر، محمد ابن حکم، زراہ ابن اعین اور بریدہ ابن معاویہ نہ ہوتے تو آثار نبوت مٹ جاتے یہ لوگ حلال اور حرام کے امین ہیں۔
3۔ کمیت اسدی: ایک انقلابی اور بامقصد شاعر تھے۔ دفاع اہلبیت کے سلسلے میں لوگوں کو ایسی جھنجھوڑنے والی اور دشمنون کو اس طرح ذلیل کرنے والی شاعری تھی کہ دربار خلافت کی طرف سے موت کی دھمکی دی گئی۔ جب کمیت نے امام کی مدح میں چند اشعار پڑھ لئے تب امام نے اسے اپنا لباس دے دیا۔
4۔ محمد ابن مسلم: امام باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے سچے دوستون میں سے تھے۔ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے لیکن امام کے علم بیکراں سے استفادہ کرنے کے لئے مدینہ تشریف لائے۔ ایک دن ایک عورت محمد ابن مسلم کے گھر آئی اور سوال کیا کہ میری بہو مر گئی ہے اور اس کے پیٹ میں زندہ بچہ موجود ہے، ہم کیا کریں؟ محمد نے کہا کہ امام باقرعلیہ السلام نے جو فرمایا ہے اس کے مطابق تو پیٹ چاک کر کے بچہ کو نکال لینا چاہیئے اور پھر مردہ کو دفن کر دینا چاہیئے۔ پھر محمد نے اس عورت سے پوچھاکہ میرا گھر تم کو کیسے ملا؟ عورت بولی میں یہ مسئلہ ابوحنیفہ کے پاس لے گئی۔ انہوں نے کہا محمد ابن مسلم کے پاس جاؤ اور اگر فتوی دیں تو مجھے بھی بتا دینا۔ امام باقر علیہ السلام کی رہبری کا ۱۹ سالہ زمانہ نہایت ہی دشوار حالات اور ناہموار راہوں میں گزرا۔ اپنے آخری ایام میں امام نے اپنے بیٹے امام جعفر صادق علیہ السلام کو حکم دیا کہ ان کے پیسوں میں سے ایک حصہ ۸۰۰ درہم دس سال کی مدت تک عزاداری میں صرف کریں۔ عزاداری کی جگہ میدان منٰی اور عزاداری کا زمانہ حج کا زمانہ قرار دیا گیا۔

حج کا زمانہ دور افتادہ اور ناآشنا لوگوں اور دوستوں کی وعدہ گاہ ہے اگر کوئی پیغام ایسا ہو کہ جسے تمام عالم اسلام تک پہنچانا ہو تو اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں اور امام نے بھی عزاداری کے لئے حج کے ایام اور اس جگہ کو معین کیا تاکہ ہر سال مجلس عزاء برپا ہونے پر ہر آدمی یہ سوال کرنے پر مجبور ہو کہ آخر کس کے لئے یہ مجلسیں برپا ہوتی ہیں اور عالم اسلام کی بلند شخصیت محمد ابن علی ابن الحسین علیہ السلام کی موت آخر طبیعی نہ تھی۔ ان کو کس نے قتل کیا اور کیوں؟ آخر ان کا جرم کیا تھا، کیا ان کا وجود خلیفہ کے لئے خطرے کا باعث تھا؟ دسیوں ابہام اور اس کے پیچھے اتنے ہی سوالات اور جستجو والی باتیں اور صاحبان عزاء اور صاحبان معرفت کی طرف سے جوابات کا ایک سیلاب۔ یہ تھا امام باقر علیہ السلام کا کامیاب جہاد، شہادت کے بعد جہاد کا نقشہ اور یہ ہے اس پُربرکت زندگی کا وجود جن کی موت اور زندگی خدا کے لئے ہے۔ ۷ الحج ۱۱۴ہجری کو ۵۷ سال کی عمر میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ ظالم و جابر بادشاہ ہشام ابن عبد الملک نے آپ کو زہر کے دلوایا اور اس زہر کے اثر سے آپ کی شہادت واقع ہوئی اور دنیائے علم و دانش ہمیشہ کے لئے سوگوار ہو گئی۔ اس آفتاب علم و ہدایت کو بھی ظالموں نے باقی رہنے نہ دیا۔ شہادت سے پہلے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ارشاد فرمایا، میں آج کی رات اس دنیا سے کوچ کر جاوں گا کیونکہ میں نے اپنے پدر بزرگوار کو خواب میں دیکھا ہے کہ مجھے شربت پیش کر رہے تھے جسے میں نے پیا  ہے، وہ مجھے زندگی جاوید اور اپنے دیدار کی بشارت دے رہے تھے۔ دوسرے دن اس آفتاب علم و دانش کے دریائے بیکران کو جنت البقیع میں امام حسن علیہ السلام اور امام سجاد علیہ السلام کے پہلو میں دفن کر دیا لیکن وقت کے ظالم و جابر حکومتوں نے اس قبر مطہر پر سائباں بھی گوارہ نہ کیا۔ دن کی دھوپ اور رات کی شبنم میں یہ قبر مطہر آج بھی مطلومیت کی مجسم تصویر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
1۔ اعلام الوری ص ۱۵۵ ،جلاء العیون ص ۲۶۰ ،جنات الخلود ص ۲۵۔
2۔ جلاء العیون ص ۲۵۹۔
3۔ مطالب السؤال ص ۳۶۹ ،شواہدالنبوت ص ۱۸۱
4۔ اعلام الوری ص ۱۵۶۔
5۔ مناقب شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۔
6۔ کتاب الارشاد ص ۲۸۶ ،نورالابصار ص ۱۳۱ ،ارجح المطالب ص ۴۴۷۔
7۔ صواعق محرقہ ص ۱۲۰
8۔ وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۴۵۰ ۔
9۔ تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱۔
10۔ تاریخ اسلام
 
اشتراک گذاری:
نظرات

اطــلاعــات تــمــــاس:

دفـتـر و ساختـمان آموزشـی: قم، خیابان معلم ، بلوار جعفر طیار ، نبش کوچه چهارم 

کدپستی: 3715696797

 

آموزش حضوری و مجازی (ساعت13 تا 18):

کارشناس آموزش مجازی : 02537741377
ارتباطات و روابــط عمــومــی: 09906265794