تاریخ انتشار: 1405/03/22 تعداد بازدید: 12
تدریس: استاد آقای حیدر ضیائی
تدوین: سید محمد حسن رضوی
استاد آقای حیدر ضیائی حفظہ اللہ تعالی علامہ حسن زادہ آملیؒ کے برجستہ شاگردوں میں سے ہیں۔ آپ نے قیصری کی شرح فصوص الحکم کے کئی دورہ جات تدریس کیے ہیں۔ اس کتاب میں فص شیثی میں شیخ اکبر نے عطایاتِ الہٰیہ اور استجابت دعا اور اس کی اقسام سے بحث کی ہے جس کا ایک حصہ یہ تحریر ہے۔ حضرت استاد نے اللہ تعالی کی عطایا ایک مرتبہ فاعل کے اعتبار سے اور پھر قابل کے اعتبار سے دو دو اقسام میں تقسیم کی ہے۔ فاعل کے اعتبار سے عطایا الہی ذاتی اور اسمائی میں تقسیم ہوتی ہے جبکہ قابل کے اعتبار سے مانگنے کی وجہ سے ملنے والی عطایا اور بغیر مانگے ملنے والی عطایا میں تقسیم ہوتی ہے۔
تدوین: سید محمد حسن رضوی
استاد آقای حیدر ضیائی حفظہ اللہ تعالی علامہ حسن زادہ آملیؒ کے برجستہ شاگردوں میں سے ہیں۔ آپ نے قیصری کی شرح فصوص الحکم کے کئی دورہ جات تدریس کیے ہیں۔ اس کتاب میں فص شیثی میں شیخ اکبر نے عطایاتِ الہٰیہ اور استجابت دعا اور اس کی اقسام سے بحث کی ہے جس کا ایک حصہ یہ تحریر ہے۔ حضرت استاد نے اللہ تعالی کی عطایا ایک مرتبہ فاعل کے اعتبار سے اور پھر قابل کے اعتبار سے دو دو اقسام میں تقسیم کی ہے۔ فاعل کے اعتبار سے عطایا الہی ذاتی اور اسمائی میں تقسیم ہوتی ہے جبکہ قابل کے اعتبار سے مانگنے کی وجہ سے ملنے والی عطایا اور بغیر مانگے ملنے والی عطایا میں تقسیم ہوتی ہے۔
کتاب فصوص الحکم ۲۷ فصوص پر مشتمل ہے۔ ہر باب میں ایک انسانِ کامل کے بارے میں اس کی شخصیت میں نمایاں ترین خاص صفت کے لحاظ سے بحث کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے پوری کتاب میں ۲۷ ابواب میں انسانِ کامل کے ۲۷ اوصاف کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ پہلا باب فصِ حکمتِ الٰہیہ فی کلمہ آدمیہ کے بارے میں تھا جس میں حضرت آدمؑ کی مناسبت سے خلافتِ الٰہیہ کے بارے میں بحث کی گئی تھی۔ دوسرے باب حکمت نفث فی کلمہ شیثیہ میں اللہ سبحانہ کی عطایا اور عنایات و بخشش کو موضوعِ بحث قرار دیا گیا ہے۔
لفظ نفث اور حضرت شیثؑ کی مناسبت
نَفَث کے معنی دمیدن یعنی پھونکنا یا دَم کرنا ہیں۔ آہستگی سے دَم کرنے کو نفث کہتے ہیں، جیساکہ عموماً دعا کرنے والے دَم کرتے ہیں۔ اس دم کرنے کو نفث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو دعا پڑھ کر کسی نبات یا پودے یا سیب پر دَم کرتے ہیں اور کسی مریض کو دیتے ہیں اور وہ مریض اسے استعمال کر کے شفایاب ہو جاتا ہے۔ اس عمل کو نفث کہتے ہیں ۔ ابن عربی کہتے ہیں کہ جب ہابیلؑ قتل ہوئے تو حضرت آدمؑ ان کے غم میں شدید غمزدہ ہو گئے۔ باری تعالیٰ نے ہابیلؑ کے بدلے جناب آدمؑ کی تسلی کے لیے حضرت شیثؑ عطا فرمایا۔ حکمت ِنفثیہ کا کلمہ شیثیہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے، کیونکہ دَم عطا کا موجب بنتا ہے ، اسی مناسبت سے حضرت شیثؑ بھی حضرت آدمؑ کے لیے ایک الٰہی عطا تھے ۔ عبرانی زبان میں شیث کے معنی ’’ہبۃ اللہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عطیہ کے ہیں ۔ہبہ یعنی دینا ، عطا کرنا۔
اللہ تعالیٰ کے عطایا کی اقسام
اللہ تعالیٰ کی عطایا و بخشش کو فاعل اور قابل کے اعتبار سے دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ فاعل کے اعتبار سے عطایا دو اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں:
۱۔ عطایا ذاتی
۲۔ عطایا اسمائی
قابل کے اعتبار سے عطیات و عطایا کی درج ذیل دو اقسام ہیں:
۱۔ مانگی گئی عطایا
۲۔ بغیر مانگے عطایا
مانگی گئی عطایا تین اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں:
۱۔ سوالِ لفظی، یعنی قولی و لفظی طور پر مانگنا
۲۔ سوالِ حالی، حال و حلیہ سے مانگنا
۳۔ سوالِ استعدادی، استعداد و قابلیت کا مانگنا
پہلے فاعل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بخششیں اور عطایا بیان کی جاتی ہیں اور اس کے بعد قابل کے اعتبار سے عطایا کے بیان کی طرف منتقل ہوں گے۔
۱۔ عطایا ذاتی
۲۔ عطایا اسمائی
قابل کے اعتبار سے عطیات و عطایا کی درج ذیل دو اقسام ہیں:
۱۔ مانگی گئی عطایا
۲۔ بغیر مانگے عطایا
مانگی گئی عطایا تین اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں:
۱۔ سوالِ لفظی، یعنی قولی و لفظی طور پر مانگنا
۲۔ سوالِ حالی، حال و حلیہ سے مانگنا
۳۔ سوالِ استعدادی، استعداد و قابلیت کا مانگنا
پہلے فاعل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بخششیں اور عطایا بیان کی جاتی ہیں اور اس کے بعد قابل کے اعتبار سے عطایا کے بیان کی طرف منتقل ہوں گے۔
عطایائے اسمائی و ذاتی:
فاعل کے اعتبار سے عطایا و عطیات کو درج ذیل دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ عطایائے ذاتی:
یہ وہ عطائیں ہیں جو بغیر کسی واسطے کے ملتی ہیں۔ اس میں اللہ کے اسماءِ ذات کا دخل ہے۔ وہ اسماء جن میں ذاتِ الٰہی کا پہلو غالب ہوتا ہے، جیسے اللہ، ربّ، سبوح اور قدوس۔ یہ عطائیں انسان کو اس کے اپنے خاص وجودی راستے سے براہِ راست نصیب ہوتی ہیں۔
۲۔ عطایائے اسمائی:
یہ وہ عطائیں ہیں جو کسی واسطے کے ذریعے ملتی ہیں۔ یہ واسطہ کبھی معلم ہوتا ہے، کبھی مرشد، کبھی اقطاب میں سے کوئی قطب اور کبھی فرشتہ۔ اس قسم میں ایک خاص اسمِ الٰہی واسطہ بنتا ہے، جیسے اسمِ غفار، اسمِ رحیم یا اسمِ قہار وغیرہ۔ ہر اسم کی عطا دوسرے اسم کی عطا سے مختلف ہوتی ہے۔
استجابت ِدعا
بعض اوقات عطائیں دعا اور درخواست پر موقوف ہوتی ہیں ۔کچھ خاص لوگ اللہ سے درخواست صرف اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اللہ کا حکم ہے: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم. مجھ سے مانگو میں قبول کروں گا۔ یہ خاص لوگ باری تعالیٰ کے لیے یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ کیا ملے اور کیا نہ ملے، بلکہ وہ صرف اللہ کے حکم کی تعمیل میں دعا مانگتے ہیں اور کسی جزا یا ذاتی مقصد کے پیچھے نہیں ہوتے۔
نَفَسِ رحمانی و اعیان ثابتہ
نَفَسِ رحمانی کو صادرِ نخستین بھی کہا جاتا ہے ۔ نفسِ رحمانی وہ تخلیقی قوت ہے جو اعیانِ ثابتہ پر پھیلی ہے اور انہیں خارجی وجود عطا کرتی ہے ۔ اعیانِ ثابتہ سے مراد ذات الہٰی و صُقع ربوبی میں اشیاء کا وجودِ علمی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تمام اشیاءِ کا علم ہے اور اسی وجودِ علمی کے عین مطابق ہر شیء خارج میں وجود و تحقق پاتی ہے۔ ذاتِ الہٰی میں اشیاء کے وجودِ علمی کو فیض اقدس اور اشیاء کے وجودِ خارجی کو فیض ِمقدس کہتے ہیں، مثلاً ایک انجینئر پہلے اپنے ذہن میں کسی عمارت کا نقشہ بناتا ہے جو کہ وجودِ علمی یا فیض اقدس ہے اور پھر اس نقشے کے مطابق عمارت تعمیر کرتا ہے جو کہ وجودِ خارجی یا فیض مقدس ہے ۔ وجودِ علمی ہمیشہ وجودِ خارجی پر مقدم ہوتا ہے ۔
اہلِ ذوق اور اہل کشف
اہلِ ذوق وہ لوگ ہیں جن کے پاس حقائق صرف معلومات کی حد تک نہیں بلکہ چکھنے اور محسوس کرنےکی حد تک ہوتے ہیں۔ جاننے اور پانے یعنی دارا بودن میں بڑا فرق ہے۔ اہل کِشف و شہود فیض حاصل کرتے وقت پہچان لیتے ہیں کہ یہ عطا اللہ کی ذات سے ہے یا کسی صفت کے واسطے سے۔ یہ بلند مقام افراد اور اقطاب کا ہے جن کے پورے وجود یعنی روح، قلب اور نفس پر اللہ کی تجلیات طاری ہوتی ہیں اور ان کے چہروں سے نضرۃ النعیم یعنی اس نعمت کی رونقیں ظاہر ہوتی ہیں۔ حضرت شیثؑ کی شخصیت اللہ کی صفت ِجود و عطاء کا مظہر ہے۔ لہٰذا ابن عربی نے فصّ آدمی کے فوراً بعد حکمت ِنفثیہ یعنی فص شیثؑ کو بیان کیا ہے۔
قابل کے اعتبار سے عطایا
اللہ تعالی کی عطایا قابل یعنی بندے کی قابلیت کے لحاظ سے ہوتی ہے جنہیں دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ مانگنے کی وجہ سے ملنے والا عطیات
۲۔ بغیر مانگے نصیب ہونے والے عطیات
۱۔ مانگے گئے عطیات:
یہاں مانگنے سے مراد لفظی طور پر مانگنا ہے جس کی تین قسمیں بنتی ہیں:
الف: لفظی طور پر مانگنا
ب: ظاہری حالت سے مانگنا
ج: استعداد و قابلیت سے مانگنا
کبھی انسان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ التجائیں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور اس سے زبان سے مانگتا ہے، جیساکہ نماز میں ہم قولی عبادت انجام دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بعض اوقات ہماری ظاہر حالت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ عبادت میں مصروف ہے جسے عبادتِ حالی کہتے ہیں، جیساکہ حالت ِرکوع سے نماز کا علم ہو جانا۔ رکوع کی حالت میں زبان سے سبحانِ رَبّي العظیم وبحمده کی تسبیح ایک عبادت ہے اور رکوع میں جانا ایک الگ عبادت۔ اسی طرح سجدہ میں ہے کہ سجدہ میں خاک پر پیشانی رکھنا ایک عبادتِ حالی ہے جبکہ سبحان ربّي الأعلیٰ وبحمده کی تسبیح قولی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا اور بخشش و عنایت مانگے اور سوال کیے بغیر نہیں ہوتا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کچھ مانگنا تین طرح سے ہو سکتا ہے:
الف: سوالِ لفظی
ب: سوالِ حالی
ج: سوالِ استعدادی
سوالِ استعدادی سے مراد مخلوق کا اپنی اندر استعداد رکھنا اور اس استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اسے عطا کرنا اور نوازنا ہے۔
۱۔ مانگنے کی وجہ سے ملنے والا عطیات
۲۔ بغیر مانگے نصیب ہونے والے عطیات
۱۔ مانگے گئے عطیات:
یہاں مانگنے سے مراد لفظی طور پر مانگنا ہے جس کی تین قسمیں بنتی ہیں:
الف: لفظی طور پر مانگنا
ب: ظاہری حالت سے مانگنا
ج: استعداد و قابلیت سے مانگنا
کبھی انسان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ التجائیں کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور اس سے زبان سے مانگتا ہے، جیساکہ نماز میں ہم قولی عبادت انجام دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بعض اوقات ہماری ظاہر حالت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ عبادت میں مصروف ہے جسے عبادتِ حالی کہتے ہیں، جیساکہ حالت ِرکوع سے نماز کا علم ہو جانا۔ رکوع کی حالت میں زبان سے سبحانِ رَبّي العظیم وبحمده کی تسبیح ایک عبادت ہے اور رکوع میں جانا ایک الگ عبادت۔ اسی طرح سجدہ میں ہے کہ سجدہ میں خاک پر پیشانی رکھنا ایک عبادتِ حالی ہے جبکہ سبحان ربّي الأعلیٰ وبحمده کی تسبیح قولی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا اور بخشش و عنایت مانگے اور سوال کیے بغیر نہیں ہوتا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کچھ مانگنا تین طرح سے ہو سکتا ہے:
الف: سوالِ لفظی
ب: سوالِ حالی
ج: سوالِ استعدادی
سوالِ استعدادی سے مراد مخلوق کا اپنی اندر استعداد رکھنا اور اس استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اسے عطا کرنا اور نوازنا ہے۔
الف: سوالِ لفظی کی دو اقسام
زبان سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مانگنا دو قسم کا ہوتا ہے:
۱۔ معین و مخصوص چیز مانگنا
۲۔ غیر معین مانگنا
معین و مخصوص چیز کا مانگنا، جیسے بندہ زبان سے کہے کہ اے اللہ مجھے علم دے، اے اللہ میری روزی میں وسعت دے، اے اللہ مجھے صحت دے وغیرہ۔ جبکہ غیر معین سوال سے یہ مراد ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے زبان سے تقاضا کرے لیکن مانگی جانے والی چیز کو معین نہ کرے،بلکہ وہ اسے مبہم و غیر معین رکھے، مثلاً کہے: اے اللہ جو میرے حق میں بہتر ہے وہ مجھے عطا فرما۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ پیسہ دے، مال دے، مقام دے یا صحت دےوغیرہ، بلکہ وہ کہتا ہے کہ جس میں میرا نفع و صلاح ہے وہ عطا فرما۔
۱۔ معین و مخصوص چیز مانگنا
۲۔ غیر معین مانگنا
معین و مخصوص چیز کا مانگنا، جیسے بندہ زبان سے کہے کہ اے اللہ مجھے علم دے، اے اللہ میری روزی میں وسعت دے، اے اللہ مجھے صحت دے وغیرہ۔ جبکہ غیر معین سوال سے یہ مراد ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے زبان سے تقاضا کرے لیکن مانگی جانے والی چیز کو معین نہ کرے،بلکہ وہ اسے مبہم و غیر معین رکھے، مثلاً کہے: اے اللہ جو میرے حق میں بہتر ہے وہ مجھے عطا فرما۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ پیسہ دے، مال دے، مقام دے یا صحت دےوغیرہ، بلکہ وہ کہتا ہے کہ جس میں میرا نفع و صلاح ہے وہ عطا فرما۔
زبان سے مانگنے کی وجہ:
جب اللہ تعالیٰ اپنی عنایات و عطیات بغیر مانگے عطا کر دیتا تو آخر کیوں اولیاءِ الہٰی اس قدر آہ و زاری کر کر کے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں؟ اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ اولیاءِ الہٰی قرآن کریم میں وارد ہونے والے حکم الہٰی ’’اُدعُونِي ، مجھ سے مانگو‘‘ کی تکمیل کی خاطر گریہ و آہ و بکاء کر کر کے اس سے مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرنے کے لیے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔
صحیفہ سجادیہ کی دعائیں میں کثرت سے عطا کر، عطا کر کا تذکرہ ہے جس سے مقصود ان چیزوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم ادعونی کی تکمیل و اطاعت کرنا ہے۔ پس فرمانِ الہٰی پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بارگاہ میں سوال کرتے ہیں۔ انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ یہ چیز انہیں ملتی ہیں یا نہیں ملتی کیونکہ ان کا مقصد حکمِ ادعونی پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جن کی تمام تر توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ باری تعالیٰ سے اپنی مراد حاصل کر لیں، چاہے وہ صحت ہو، رزق کی وسعت ہو یا عاقبت کی بہتری وغیرہ۔ ان سب امور کا تعلق یا تو دنیاوی اور امورِ استعجالی سےہے یا پھر جہنم کی آگ سے نجات اور جنت میں داخل ہونے یعنی امورِ غیر استعجالی ہیں۔ یہ عطیات کی یہ مختلف اقسام فاعل اور قابل کے لحاظ سے ہے ۔
اگر یہ سوال ابھرے کہ ہم کلی دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ جو خیر ہے وہ ہمیں عطا فرما، جبکہ اللہ تو ہمیشہ خیر ہی عطا کرتا ہے، ایسی صورت میں ہماری اس دعا کا کیا فائدہ؟ اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ بے شک اللہ ہمیشہ وہی کرتا ہے جو خیر ہے، لیکن اس کا ارادہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اس سے مانگیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے شرط رکھی ہے کہ میں تمہارے حق میں بہتر چیز اس وقت عطا کروں گا جب تم اسے مانگو گے۔ پس دعا بندے کے سوال کے تحقق کے لیے ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں کے لیے برائی، شر یا نقصان نہیں چاہتا۔ جب ہم کہتے ہیں بغیر سوال، تو اس سے مراد سوالِ لفظی ہے، ورنہ سوال کا ہونا ضروری ہے۔ یہ تقسیم گذشتہ دونوں اقسام اسمائیہ و ذاتیہ کو شامل ہے۔
صحیفہ سجادیہ کی دعائیں میں کثرت سے عطا کر، عطا کر کا تذکرہ ہے جس سے مقصود ان چیزوں کا حصول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم ادعونی کی تکمیل و اطاعت کرنا ہے۔ پس فرمانِ الہٰی پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بارگاہ میں سوال کرتے ہیں۔ انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ یہ چیز انہیں ملتی ہیں یا نہیں ملتی کیونکہ ان کا مقصد حکمِ ادعونی پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جن کی تمام تر توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ باری تعالیٰ سے اپنی مراد حاصل کر لیں، چاہے وہ صحت ہو، رزق کی وسعت ہو یا عاقبت کی بہتری وغیرہ۔ ان سب امور کا تعلق یا تو دنیاوی اور امورِ استعجالی سےہے یا پھر جہنم کی آگ سے نجات اور جنت میں داخل ہونے یعنی امورِ غیر استعجالی ہیں۔ یہ عطیات کی یہ مختلف اقسام فاعل اور قابل کے لحاظ سے ہے ۔
اگر یہ سوال ابھرے کہ ہم کلی دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ جو خیر ہے وہ ہمیں عطا فرما، جبکہ اللہ تو ہمیشہ خیر ہی عطا کرتا ہے، ایسی صورت میں ہماری اس دعا کا کیا فائدہ؟ اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ بے شک اللہ ہمیشہ وہی کرتا ہے جو خیر ہے، لیکن اس کا ارادہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اس سے مانگیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے شرط رکھی ہے کہ میں تمہارے حق میں بہتر چیز اس وقت عطا کروں گا جب تم اسے مانگو گے۔ پس دعا بندے کے سوال کے تحقق کے لیے ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں کے لیے برائی، شر یا نقصان نہیں چاہتا۔ جب ہم کہتے ہیں بغیر سوال، تو اس سے مراد سوالِ لفظی ہے، ورنہ سوال کا ہونا ضروری ہے۔ یہ تقسیم گذشتہ دونوں اقسام اسمائیہ و ذاتیہ کو شامل ہے۔
استجابت ِالہٰی کی اقسام:
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جب بھی سوال کیا جائے تو ذاتِ باری تعالیٰ کی جانب سے اجابت ہوتی ہے۔ یہ اجابت و قبولیت دو قسم کی ہے:
۱۔ استجابتِ لبیکی: یعنی اللہ کا بندے کو جواب دینا۔
۲۔ استجابت تکمیلی: یعنی خواہش کی تکمیل، جو مانگا وہ مل گیا۔
۱۔ استجابتِ لبیکی: یعنی اللہ کا بندے کو جواب دینا۔
۲۔ استجابت تکمیلی: یعنی خواہش کی تکمیل، جو مانگا وہ مل گیا۔
نظرات



