منوی اصلی

اسلامِ اعظم اور ایمانِ اعظم میں فرق

تاریخ انتشار: 1405/08/17      تعداد بازدید: 1
اسلامِ اعظم اور ایمانِ اعظم میں فرق
نواں مرتبہ ایمانِ اعظم ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ اسلامِ اعظم میں بیان کردہ حقیقت کی تصدیق اور اس کے اعتراف کے بعد انسان اپنی نیستی کا مشاہدہ اور معائنہ کرے۔ یمانِ اعظم کی حقیقت، اسلامِ اعظم کے ظہور اور وضوح کی شدت ہے اور اس کا مرتبہ علم و اذعان سے آگے بڑھ کر مشاہدے اور عیان کے مرتبے تک پہنچ جانا ہے۔ 

اسلامِ اعظم اور ایمانِ اعظم کا فرق

 مرتبہ ایمانِ اعظم میں شہود تک پہنچنا چاہیے۔ اسلام میں بھی علم ہے، لیکن ایمانِ اعظم کے مرتبے میں شہود ہے۔ مرتبہ اسلامِ اعظم میں دانائی ہے اور مرتبہ ایمانِ اعظم میں دارائی۔ اس کا راستہ یہ ہے کہ اسی امر کو شدت دی جائے جو مرتبہ اسلامِ اعظم میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان جب اس بات کا اعتقاد پیدا کر لے کہ وہ خود کچھ نہیں ہے، تو اسے اس بات کو بار بار دہرانا اور اس کی اتنی مشق کرنی چاہیے کہ رفتہ رفتہ اپنے اندر اس نیستی کا مشاہدہ کرنے لگے۔ اپنی نیستی کا شہود درحقیقت اسی علم کو تقویت دینا ہے۔
    یہ اصول ہر جگہ کارفرما ہے۔ اگر آپ کسی بات کو علمی طور پر، تصور و تصدیق کے مرتبے میں جانتے ہوں، پھر اسے بار بار دہرائیں تو وہ رفتہ رفتہ ملکہ بن جاتی ہے اور آپ کے وجود اور حقیقت کا حصہ بن جاتی ہے، مثلاً اگر آپ ایک مرتبہ خطاطی کی مشق کریں تو ممکن ہے کہ اسی ایک مرتبہ کی حد تک خوش خطی حاصل ہو جائے۔ دوسری مرتبہ مشق کریں گے تو اس میں مزید پختگی آئے گی، تیسری مرتبہ کریں گے تو مزید تقویت حاصل ہو گی۔ اسی طرح مسلسل مشق اور لکھنے سے آپ کے اندر خطاطی کا ملکہ پیدا ہو جائے گا، یہاں تک کہ وہ آپ کے وجود کا لازمی حصہ بن جائے گی۔ آپ جہاں بھی ہوں اور جس حالت میں بھی ہوں، یہ فن آپ کے ساتھ رہے گا۔
    اسی طرح اگر آپ کوئی شعر، غزل یا قصیدہ ایک مرتبہ پڑھیں تو اس کے بعض الفاظ آپ کو یاد رہ جائیں گے۔ دوسری مرتبہ پڑھنے سے زیادہ یاد ہوں گے، تیسری مرتبہ پڑھنے سے مزید یاد رہیں گے، یہاں تک کہ مسلسل تکرار سے پورا قصیدہ آپ کو حفظ اور ذہن نشین ہو جائے گا اور آپ کے وجود کا حصہ بن جائے گا۔ تمام فنون، تمام شعبوں اور تمام کاموں میں تکرار انسان کو دارائی اور شہود سے بہرہ مند کرتی ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ اس مسئلے کو آپ کے ذہن، وجود اور حقیقت میں بار بار دہرانا چاہیے، یہاں تک کہ آپ کو یہ حقیقت سمجھ میں آ جائے کہ آپ کچھ بھی نہیں ہیں۔ آپ کا وجود، وجودِ حق کے انعکاس کی ایک شعاع ہے؛ آپ کی حیات، حیاتِ حق کے انعکاس کی ایک شعاع ہے؛ آپ کا علم، ارادہ، قدرت، سمع اور بصر بھی اسی طرح ہیں۔ ان حقائق کو اپنے وجود، ذہن، دل اور فکر میں اتنی مرتبہ دہرایا جائے اور اتنی تقویت دی جائے کہ رفتہ رفتہ آپ کا وجود ایک مشہود اور معاین امر بن جائے، جسے آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ آپ کی حقیقت تصور و تصدیق کے مرتبے سے آگے بڑھ کر سراسر اسی حقیقت کا مظہر بن جائے۔ یہی ایمانِ اعظم ہے۔
    ایمانِ اعظم، اسلامِ اعظم ہی ہے، البتہ اس فرق کے ساتھ کہ تکرار اور شدت کے ذریعے مفہوم، مصداق میں تبدیل ہو جاتا ہے اور معانی و مفاہیم آپ کے وجود میں ایک عینی حقیقت بن جاتے ہیں۔ اس کے لیے تمرین اور ریاضت درکار ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان بس انگلی ہلا دے اور یہ سب خود کار طور پر حاصل ہو جائے؛ بلکہ اس کے لیے ریاضت ضروری ہے۔ ان امور کی تکرار سے انسان کو یقین حاصل ہوتا ہے؛ یقین ِعلمی سے آگے بڑھ کر عین الیقین اور حق الیقین تک رسائی ہوتی ہے، مثلاً چاند رفتہ رفتہ بدر (چودہویں) کی حالت سے نکل رہا ہوتا ہے تو اس میں کمی واقع ہو رہی ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے اور آخر میں ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔  چودھویں رات کے چاند کی حالت کو سامنے رکھیے۔ چودھویں رات کو عموماً چاند مکمل ہوتا ہے جسے بدر کہتے ہیں۔ یہ حالت مقابلہ ہے۔ کبھی یہ کیفیت تیرہویں رات کو بھی ہوتی ہے اور کبھی پندرہویں رات کوبھی؛ تاہم عام طور پر چودھویں رات کو چاند بدر کی حالت میں ہوتا ہے۔ ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ چاند نیِّر یعنی خود روشن نہیں ہے، بلکہ مستنیر ہے۔ نیِّر یعنی روشن کرنے والا سورج ہے جو گیسوں کا ایک عظیم مجموعہ ہے، جس میں مسلسل دھماکے اور حرارت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ سورج کا پورا کرہ نور، روشنی، حرارت اور توانائی سے بھرپور ہے۔ یہ نیِّر ہے۔ قمر کی کیفیت ایسی نہیں ہے۔ چاند زمین کی طرح ہے اور زمین چاند کی طرح ہے۔ چاند زمین کا قمر ہے۔ لیکن جب ہم زمین سے چاند کو دیکھتے ہیں، بالخصوص چودھویں رات کو، تو ہمیں وہ سراپا نور دکھائی دیتا ہے۔ چاند اپنی ذات سے روشن نہیں ہے، بلکہ اپنی ذات کے اعتبار سے تاریک اور کدر ہے۔ البتہ جب سورج کی روشنی اس کے چہرے پر پڑتی ہے تو ہم دور سے اسے ایک روشن جسم کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ یہ نور درحقیقت سورج کا نور ہے؛ حقیقتاً اور عیناً وہی سورج کا نور ہے۔ ہم مجازاً کہتے ہیں کہ یہ چاند کا نور ہے۔ عام لوگ کہتے ہیں کہ یہ چاند کی روشنی ہے، سورج غروب ہو گیا ہے اور چاند نے اس کی جگہ لے لی ہے، اب چاند روشنی پھیلا رہا ہے۔ عوام یہی سمجھتے ہیں کہ چاند کا چہرہ روشن ہے اور یہ نور اسی کا ہے۔ لیکن جس شخص نے علم ہیئت پڑھا ہو، فزکس اور آسٹرو فزکس کا علم رکھتا ہو، وہ جانتا ہے کہ چاند کا چہرہ اپنی ذات کے اعتبار سے تاریک ہے۔ سورج کی روشنی کا چاند پر منعکس ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ ہم اسے روشن دیکھتے ہیں۔ چاند کا نور اس کا اپنا نہیں، بلکہ اس پر عاریتاً ہے۔ جس وقت وہ روشن دکھائی دیتا ہے، اسی وقت اپنی ذات کے اعتبار سے تاریک بھی ہوتا ہے۔ متعلقہ علم رکھنے والا انسان اس حقیقت کو اپنے وجود میں ایک عینی اور واقعی امر کے طور پر سمجھ سکتا ہے۔ جب وہ چاند کو دیکھتا ہے تو گویا کہتا ہے کہ میں سورج کو دیکھ رہا ہوں؛ حقیقت میں سورج ہی کا نور دیکھ رہا ہوں۔ وہ یہ نہیں مانتا کہ یہ نور چاند کا اپنا ہے، بلکہ جانتا ہے کہ یہ سورج کا نور ہے۔ 
    اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو ہمارے لیے آیت اور نشانی قرار دیا ہے، تاکہ ہم اپنے آپ کو دیکھیں اور سمجھیں کہ ہم اپنی ذات کے اعتبار سے معدوم، مردہ، جاہل اور عاجز ہیں۔ حقیقتِ وجود کا نور ہی ہے جس نے ہمیں موجود کیا ہے، لیکن ہم خود کو موجود سمجھتے ہیں۔ وجود کی لذت ہماری اپنی نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے کہ ہم اپنی ذات کے اعتبار سے معدوم ہیں، لیکن اسی وقت موجود بھی دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت ِوجود نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور ہم وجود کو قبول کرنے والے ہیں۔ ہم اپنی ذات کے اعتبار سے معدوم، مردہ، جاہل اور عاجز ہیں۔ اگر ہم میں قدرت، حیات، ارادہ، سمع، بصر اور کلام ہے، اور ان سب سے بڑھ کر وجود ہے، تو یہ سب اسی کے وجود کا انعکاس ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو محسوس کرنا چاہیے، اور تکرار کے ذریعے اسے اپنے اندر راسخ کرنا چاہیے۔ تمام ذوات اسی میں فانی ہیں، تمام صفاتِ فانیہ اسی میں فانی ہیں اور تمام افعالِ فانیہ بھی اسی میں فانی ہیں۔
 ذکر یا هُوَ یا مَنْ لا هُوَ إِلّا هُوَ اور فنائے ذاتی
    یہ ذکر شریف ہے: يَا هُوَ يَا مَنْ لَا هُوَ إِلَّا هُوَ،اے وہ! اے وہ ذات جس کے سوا کوئی نہیں؛ اے ہستی، اے وجود، تیرے سوا کسی کی کوئی ہستی اور ثبات نہیں۔ تو ہی ہویت ہے اور تو ہی ہستی ہے۔ اس ذکر شریف یا هُوَ کی تکرار، ان معارف اور مطالب کی طرف توجہ کے ساتھ، رفتہ رفتہ ہمیں اس مقام تک پہنچاتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو عاریتی اور فانی سمجھیں، ہماری کوئی مستقل ہویت نہ ہو اور وہی ہماری ہویت ہو۔ فنائے ذاتی کے لیے یہ ذکر مفید ہے، تاکہ ہم اپنی ذات کو اس کی ہستی کے پرتو میں پہچانیں، دیکھیں اور مشاہدہ کریں۔ اپنے آپ کو چاند کی طرح سمجھیں؛ چاند اپنی ذات کے اعتبار سے تاریک ہے، اسی طرح ہم بھی اپنی ذات کے اعتبار سے تاریک ہیں۔ ہمارے اندر جو نورانیتِ وجودی ہے، وہ شمسِ حقیقت کے نور کا انعکاس ہے۔ ان مطالب پر توجہ کے ساتھ بار بار غور کریں اور ان کے ساتھ ذکرِ يَا هُوَ يَا مَنْ لَا هُوَ إِلَّا هُوَ کی تکرار کریں۔ بعض لوگ اس ذکر کو صوفیہ کی ایجاد اور خود ساختہ ذکر قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ  يَا هُوَ يَا مَنْ لَا هُوَ إِلَّا هُوَ عرفاء کا بنایا ہوا ذکر ہے، جسے انہوں نے خود ایجاد کیا ہے۔ لیکن فیض نے معتبر سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ امیرالمؤمنینؑ جنگِ بدر میں لڑائی کے دوران یہ ذکر فرما رہے تھے۔ اس روایت کے ماخذ کے بارے میں تحقیق کیجیے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے دیکھا کہ علی بن ابی طالب ؑ ذکر و وِرد میں مشغول ہیں اور ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہیں۔ آپؐ نے پوچھا:يَا عَلِيُّ، مَا هٰذِهِ الْكِنَايَاتُ؟ اے علیؑ! یہ کون سے کلمات ہیں؟ آپؑ نے عرض کیا کہ آج رات میری ملاقات جناب خضرؑسے ہوئی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے ایسا ذکر اور ورد عطا فرمائیں جس کے ذریعے میں دشمنوں پر کامیاب ہو سکوں۔ اب میں جناب خضر ؑ کے فرمان کے مطابق یہ ذکر کر رہا ہوں:يَا هُوَ يَا مَنْ لَا هُوَ إِلَّا هُوَ، رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا:عُلِّمْتَ الِاسْمَ الْأَعْظَمَ، تمہیں اسم اعظم کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ ذکر فنائے ذاتی کے لیے ہے:يَا هُوَ يَا مَنْ لَا هُوَ إِلَّا هُوَ۔
فنائے صفاتی اور فنائے افعالی کے اذکار
    فنائے صفاتی کے لیے ذکرِ شریف لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ہے۔ معبود تو ہی ہے۔ الٰہ اور معبود ہونا ایک صفت ہے۔ ذکرِ شریف لا إله إلا الله کے ذریعے انسان میں توحید ِصفاتی زندہ ہوتی ہے اور وہ توحید ِصفاتی کے مرتبے تک پہنچتا ہے۔ فنائے افعالی کے لیے ذکرِ شریف ہے: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، جب آپ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں یا کسی کام کو ترک کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو حول اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ قوت کا تعلق فعل سے ہے اور حول کا تعلق ترک سے ہے۔ لہٰذا کام کرنے کے لیے قوت درکار ہوتی ہے اور کسی کام کو ترک کرنے اور اس سے منصرف ہونے کے لیے یا اپنی حالت کو بدل کر فعل سے ترک کی طرف آنے کے لیے حول کی ضرورت ہے۔ یہ ذکر شریف بتاتا ہے کہ خواہ انسان فعل کے مقام پر ہو یا ترک کے مقام پر، ہر دو صورتوں میں حقیقت یہی ہے: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ۔ اگر انسان ان اذکار کو بصیرت، معرفت اور پوری توجہ کے ساتھ اپنی زبان کا وِرد بنا لے تو یہ اس کی ہویت کو ہویتِ حق تبارک و تعالیٰ کے فناء کے قریب کرتے ہیں۔ فنائے ذاتی، فنائے صفاتی اور فنائے افعالی کی حقیقت انسان کے لیے واضح ہوتی ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ اس کا وجود، اس کی صفات اور اس کے افعال سب اسی کے سہارے ہیں۔ لہٰذا فنائے ذاتی، فنائے صفاتی اور فنائے افعالی کے حصول کے لیے ان اذکار کو اختیار کریں۔
 جنگِ صفین میں ذکرِ الٰہی اور ثباتِ قدم
    جنگِ صفین میں بھی امیرالمؤمنین ؑ کی زبان پر ذکر  یا هو جاری تھا۔ میدانِ جنگ اور مبارزے کی حالت تھی، لیکن یہ ذکر کبھی آپؑ کی زبان اور قلب سے جدا نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
﴿ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ (انفال: ۴۵)
 جب تم کسی گروہ سے مقابلہ کرو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
    اس آیتِ شریفہ میں اللہ تعالیٰ چند ہدایات دیتا ہے۔ پہلی ہدایت یہ ہے:
- ﴿فَاثْبُتُوا﴾: ثابت قدم رہو، میدان سے نہ بھاگو، کمزوری نہ دکھاؤ، اپنے اعصاب کو مضبوط رکھو، دشمن کو دیکھ کر خوف زدہ نہ ہو اور تمہارا دل کمزور نہ پڑے۔ اس کے فوراً بعد فرمایا:﴿وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيرًا﴾ اللہ کو کثرت سے یاد کرو، یعنی میدانِ جنگ اور دشمن سے مقابلے کی حالت میں بھی اللہ کا ذکر جاری رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم انسان کو میدانِ مبارزہ میں ثبات عطا کرتا ہے اور اسے ثابت قدم بناتا ہے۔ اسی لیے جنگِ بدر میں یا هُو یا مَنْ لا هُو إِلّا هُو اور جنگ صفین میں بھی یہی ذکر جاری تھا۔ اس ذکر کے ذریعے انسان اپنے آپ کو خدا کی آغوش میں ڈال دیتا ہے اور خدا اسے اپنی آغوش میں لے لیتا ہے؛ بشرطیکہ یہ عمل صداقت، توجہ، بصیرت اور ان معارف کی روشنی میں ہو جن کی وضاحت ہم نے کی ہے۔ ان حقائق کو بار بار دہرانا ضروری ہے۔

 انسان کی اپنی ذات میں تاریکی اور چاند کے احوال

    ہم اپنی ذات کے اعتبار سے تاریک ہیں۔ نورِ حق اور شمسِ حقیقت نے ہمیں موجود کیا ہے، لیکن ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم خود موجود ہیں۔ چاند کی مثال اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے نہایت گویا ہے۔ چاند کی مختلف حالتوں کو دلیل بنائیے کہ اس کا نور اس کی ذات سے نہیں ہے۔ کیا آپ نے کبھی سورج کا ہلال دیکھا ہے یا اس کے بارے میں سنا ہے؟ نہیں۔ اس لیے کہ سورج کا نور اس کی ذات سے ہے۔ یہاں چاند کے مقابلے میں یہ بات بیان کی جا رہی ہے؛ ورنہ سورج کا چہرہ بھی اللہ تعالیٰ کے نور سے روشن ہے:
﴿اللّٰهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ (نور: ۳۵)
    اس مقام پر اس پہلو سے صرفِ نظر کرتے ہوئے چاند اور سورج کا تقابل پیش کیا جا رہا ہے۔ چاند ہلال کی حالت میں بھی ہوتا ہے، پھر تثلیث، پھر تربیع، پھر دوبارہ تثلیث، اس کے بعد بدر کی حالت میں پہنچتا ہے۔ پھر واپس آتا ہے، دوسری تثلیث، دوسری تربیع اور دوبارہ تثلیث سے گزرتا ہوا محاق میں پہنچ جاتا ہے اور اس کی تاریکی ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ مختلف حالتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ چاند اپنی ذات کے اعتبار سے تاریک ہے اور اس کا نور اس کا اپنا نہیں ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو بھی چاند کی مانند سمجھنا چاہیے۔ ہماری ذات کدر اور تاریک ہے۔ ممکن دو عالم میں کبھی بھی اپنے طور پر مستقل نہیں ہوا۔ واللہ اعلم۔ ہم اسی وقت بھی، جب بظاہر موجود ہیں، اپنی ذات کے اعتبار سے موجود نہیں ہیں؛ اور اسی وقت بھی، جب زندہ ہیں، اپنی ذات کے اعتبار سے مردہ ہیں۔ اگر انسان ان حقائق کی حلاوت اور شیرینی کو محسوس کرے تو تکرار اور ان معانی کے ملکہ بن جانے سے اسے بہت لذت حاصل ہوگی۔ یہ بہت دل نشین حقیقت ہے کہ انسان اپنے وجود، حیات اور قدرت میں اسی کی حکومت کو دیکھے۔ امام خمینی ؒ نے اس حقیقت کو ایک شعر میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
از بحث ورود و حکومت دلم گرفت\
در ملک جان حکومت جانانم آرزوست
بحث ِورود اور حکومت سے میرا دل بھر گیا ہے؛ 
اب ملک ِجان میں جاناں کی حکومت کی آرزو ہے۔
    انسان یہ محسوس کرے کہ حاکم وہی ہے، وجود اسی کا ہے، عالم وہی ہے، حی وہی ہے، سمیع وہی ہے، بصیر وہی ہے اور ید بھی اسی کا ہے۔ انسان اپنی وسعت کے مطابق اپنے وجود میں حکومتِ جاناں کا مشاہدہ کرے اور اپنے وجود کے میدان میں قدرتِ خدا کا ہاتھ محسوس کرے۔ پھر وہ اس حقیقت کی تلاش میں نکلتا ہے کہ اپنے وجود میں خدا کے ہاتھ اور اس کی قدرت کو محسوس کرے۔ یہی ایمانِ اعظم ہے۔ اسلامِ اعظم کی شدت، ان حقائق کی تکرار کے ذریعے، ایمانِ اعظم میں تبدیل ہوتی ہے۔

 انسان کے متغیر احوال؛ اپنی بے اختیاری کا مشاہدہ

    جس طرح چاند کی مختلف شکلیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے تاریک ہے، اسی طرح ہمیں بھی اس حقیقت کو اپنے بارے میں تصور کرنا اور مشاہدہ کرنا چاہیے۔ کبھی انسان دیکھتا ہے کہ وہ جو کام کرنا چاہتا ہے، وہ نہیں ہو پاتا۔ یہ گویا محاق کی حالت ہے۔ کبھی دیکھتا ہے کہ تمام کام نہایت آسانی اور روانی سے انجام پا رہے ہیں؛ یہ گویا بدر کی حالت ہے۔ کبھی کام ہو جاتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ کبھی پچاس فیصد کام ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ یہ سب وہی اختلاف اور نقصان ہے جو ہم چاند میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر چاند حقیقتاً اپنے نور سے روشن ہوتا تو اسے ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے نور میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نور اس کا اپنا نہیں ہے۔ اب ہم اپنے مختلف احوال کے ذریعے یہ حقیقت سمجھیں کہ ہم خود کچھ نہیں ہیں۔ معلوم نہیں آپ نے زندگی میں ان حالات کا تجربہ کیا ہے یا نہیں؛ جب انسان بیمار ہو جاتا ہے تو اپنی صحت کھو دیتا ہے۔ وہ کام جو پہلے کرنا چاہتا تھا، اب نہیں کر پاتا۔ اٹھنا چاہتا ہے تو آسانی سے نہیں اٹھ سکتا، سونا چاہتا ہے تو آسانی سے سو نہیں سکتا، کھانے کی خواہش نہیں ہوتی، بھوک نہیں لگتی اور اپنے کام انجام دینے سے عاجز ہو جاتا ہے۔ اگر تم خود ہی سب کچھ کرنے والے ہو تو پھر یہ سب کام کیوں نہیں کر لیتے؟
    ان باتوں کو اپنے وجود اور دل میں بار بار دہرائیں۔ آج جب آپ الحمدللہ تندرست ہیں، چلتے پھرتے ہیں، سوتے جاگتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، اپنے کام انجام دیتے ہیں اور نشاط محسوس کرتے ہیں، تو اس وقت کو بھی یاد کریں جب آپ کے اندر نشاط نہیں تھا۔ یہ کمی بیشی اور تبدیلیاں ہمیں اس حقیقت تک پہنچانی چاہییں کہ یہ سب ہماری ذات کا نہیں ہے۔ کیا ہم اپنی مرضی سے موجود ہوئے ہیں؟ نہیں، ہمیں موجود کیا گیا ہے۔ کیا ہم اپنی مرضی سے سوتے ہیں؟ نہیں، نیند ہمیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔کیا ہم اپنی مرضی سے بیدار ہوتے ہیں؟ نہیں، ہمیں بیدار کیا جاتا ہے۔ کیا ہم اپنی مرضی سے صحت مند رہتے ہیں؟ نہیں، ہمیں صحت عطا کی جاتی ہے۔ اگر ہم بیمار ہو جائیں تو کیا اپنی مرضی سے صحت یاب ہو جاتے ہیں؟ نہیں، وہی طبیب ہے، وہی مصلح ہے اور وہی شفا دینے والا ہے۔ ان تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لیجیے۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان کبھی بیمار نہ ہوا ہو، کبھی عاجز نہ ہوا ہو یا کبھی فقیر نہ ہوا ہو۔ ہم نے زندگی میں تنگ دستی، فقر اور صحت کے زوال کا تجربہ کیا ہے۔ ہم بیمار ہوتے ہیں، عاجز ہو جاتے ہیں اور ہمارے احوال بدلتے رہتے ہیں۔ یہ تمام امور چاند کی کمی اور اس کے متغیر احوال کی طرح اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم اپنی ذات میں کچھ نہیں ہیں۔ ہم خواہ مخواہ اپنے آپ کو مستقل اور خودمختار سمجھتے ہیں۔ ان حقائق کو ہمارے لیے عینی اور مشہود بننا چاہیے۔ اس مقام پر انسان صداقت کے ساتھ کہتا ہے: يَا هُوَ يَا مَنْ لَا هُوَ إِلَّا هُوَ، اور صداقت کے ساتھ کہتا ہے:لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، اسی طرح صداقت کے ساتھ کہتا ہے:بِحَوْلِ اللّٰهِ وَقُوَّتِهِ أَقُومُ وَأَقْعُدُ، اور صداقت کے ساتھ کہتا ہے:لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ۔ یہ اذکار اور ان حقائق کی تکرار ہی انسان کو اس شہود تک پہنچاتی ہے۔ ہمیں ان سے غافل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں دہراتے رہنا چاہیے، یہاں تک کہ یہ حقائق ہمارے وجود میں ملکہ بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

 عبارتِ کتاب: نهم: ایمان اعظم، و آن عبارت است از مشاهده و معاینه نیستی خود بعد از تصدیق و اذعان به آنچه اسلام اعظم است. نواں مرتبہ ایمانِ اعظم ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ اسلامِ اعظم میں بیان کردہ حقیقت کی تصدیق اور اس کے اعتراف کے بعد انسان اپنی نیستی کا مشاہدہ اور معائنہ کرے۔
و حقیقت آن شدت ظهور و وضوح اسلام اعظم است. اور ایمانِ اعظم کی حقیقت، اسلامِ اعظم کے ظہور اور وضوح کی شدت ہے۔
و تجاوز آن از حدود علم و اذعان تا آنکه به مرتبه مشاهده و عیان رسد. اور اس کا مرتبہِ  علم و اذعان سے آگے بڑھ کر مشاہدے اور عیان کے مرتبے تک پہنچ جانا ہے۔
و از این جهت بود که چون خدای تعالی به خلیل خود فرمود: ﴿أَسْلِمْ﴾، قال: ﴿أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾.اسی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل، حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا: ﴿أَسْلِمْ﴾ تو انہوں نے عرض کیا:﴿أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (بقرہ، ۱۳۱)
و اشاره به دخول در این عالم است قوله سبحانه و تعالی: ﴿فَادْخُلِي فِي عِبَادِي﴾. اور اس عالم میں داخل ہونے کی طرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ ہے:
﴿ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴾(فجر: ۲۹)
چه حقیقت عبودیت در این وقت محقق، و دخول در آن کنایه‌ای از مشاهده و عیان است.کیونکہ اس وقت حقیقتِ عبودیت متحقق ہوتی ہے اور اس میں داخل ہونا مشاہدے اور عیان سے کنایہ ہے۔
    وہی حقیقت جسے ہم نے اسلامِ اعظم میں بیان کیا تھا، کہ انسان اپنی انانیت اور خودی کو ختم کرے اور اس کے سامنے کوئی مستقل «میں» باقی نہ رہے، اب اس حقیقت کا معائنہ اور مشاہدہ کرے۔ ایمانِ اعظم کی حقیقت یہی ہے کہ اسلامِ اعظم کی وہی حقیقت شدت اختیار کر جائے، زیادہ واضح ہو جائے اور انسان کو اس کا شہود حاصل ہو جائے۔ یعنی انسان علم اور تصدیق کے مرتبے سے آگے بڑھ کر مشاہدے اور عیان کے مرتبے تک پہنچ جائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا: ﴿أَسْلِمْ﴾ تو انہوں نے عرض کیا: ﴿أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ یہ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ  ابتدائی مرتبے میں اسلامِ اعظم ہے، لیکن جب یہی حقیقت تقویت حاصل کرتی ہے تو ایمانِ اعظم بن جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَادْخُلِي فِي عِبَادِي﴾ اس کا مطلب ہے کہ میرے بندوں کی جماعت میں داخل ہو جاؤ؛ ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ جو میرے زیر ِسایہ ہیں، میری پناہ میں ہیں اور میری قُبّہ کے نیچے ہیں۔ میں نے انہیں اپنے اندر فانی کر دیا ہے۔ تم بھی آؤ اور ان کے زمرے میں داخل ہو جاؤ۔ یہی مشاہدہ ہے۔ تم بھی اس بزم میں داخل ہو جاؤ۔ تم سے پہلے دوسرے لوگ آ چکے ہیں اور فانی ہو چکے ہیں، تم بھی ان کے زمرے میں داخل ہو جاؤ۔ حقیقت عبودیت یہی ہے۔ عبد کا مطلب بھی یہی ہے؛ یعنی وہ چاند جو سورج کے نور کا انعکاس کرتا ہے۔ بندہ اپنی ذات سے کچھ نہیں رکھتا، بلکہ اس میں جو کچھ ہے، وہ اسی کی عطا اور انعکاس ہے۔
    امید ہے کہ جناب آقای بہجت کے مزار اور قبر پر جو لفظ العبد لکھا گیا ہے، وہ حقیقت کے مطابق ہو اور وہ واقعی اس مقام پر فائز ہوں کہ ان کی ذات میں جو نور دکھائی دیتا ہے، وہ ان کا اپنا نہ ہو، بلکہ نورِ حق کا انعکاس ہو۔ وہ اس بات پر راضی نہیں تھے کہ ان کے لیے آیت اللہ، آیت اللہ العظمیٰ، فقیہِ ربّانی، عارفِ صمدانی جیسے القاب لکھے جائیں، جو عموماً لکھے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کو ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں کہ وہ ان القاب و عناوین کو پسند کرتے ہیں اور ان سے لذت حاصل کرتے ہیں کہ انہیں آیت اللہ، مرجع تقلید شیعیان وغیرہ لکھا جائے۔ اس اعتبار سے مجھے خوشی ہے کہ وہاں العبد لکھا گیا ہے۔ اگر یہ صداقت کے ساتھ لکھا گیا ہو تو ان شاء اللہ یہی حقیقت ہے، اور اگر محض دعویٰ ہو تو یہ بھی بہت بڑا دعویٰ ہے؛ کیونکہ العبد ہونا بہت بڑی بات ہے۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، عبد اور عبودیت کا فہم اور اس کا شہود بہت بڑی حقیقت ہے۔ انسان اس بات کا مشاہدہ کرے کہ وہ چاند کی طرح اپنی ذات کے اعتبار سے کدر، معدوم، مردہ، جاہل اور عاجز ہے۔ اس میں وجود، قدرت، حیات، علم، سمع اور بصر سمیت جو کچھ بھی ہے، وہ سب اسی کا ہے۔ انسان صرف قبول کرنے والا اور قابل ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے کہ انسان اس حقیقت کے شہود اور ادراک تک پہنچ جائے۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَادْخُلِي فِي عِبَادِي﴾، تو اس کا مطلب ہے کہ میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ، اہل شہود بن جاؤ، اور ان بندوں کی طرح ہو جاؤ جو میرے زیرِ سایہ اور میری پناہ میں ہیں۔ میں نے انہیں اپنی پناہ دی ہے، وہ میرے وجود میں فانی ہوئے ہیں اور میری بقا کے ساتھ باقی ہیں۔ ان کی بقا کا معیار میری بقا ہے۔ تم بھی اسی فضا میں داخل ہو جاؤ۔ اس کا مطلب ہے کہ آؤ اور دیکھو، اپنے آپ کو چاند کی مانند دیکھو جو شمسِ حقیقت کے نور کا انعکاس ہے۔
 قیامتِ کبری انفسی اور عالمِ جبروت میں ورود اور قیامت کی پانچ اقسام
عبارتِ کتاب: در این هنگام سالک از عالم ملکوت ارتحال و قیامت کبرای انفسیه بر او قیام می‌نماید. اس وقت سالک عالمِ ملکوت سے انتقال کرتا ہے اور اس پر قیامتِ کبرای انفسیہ قائم ہو جاتی ہے۔
و به عالم جبروت داخل می‌شود و از مشاهدات ملکوتیه و معاینات جبروتیه فائز می‌شود. اور وہ عالمِ جبروت میں داخل ہوتا ہے اور مشاہداتِ ملکوتیہ اور معایناتِ جبروتیہ سے بہرہ مند ہوتا ہے۔
و از عالم نفوس متعلقه به افلاک به عالم منزه از اجسام داخل می‌شود. اور وہ افلاک سے متعلق نفوس کے عالم سے اس عالم میں داخل ہوتا ہے جو اجسام سے منزہ ہے۔
    یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اس مرتبے میں سالک عالم ملکوت سے انتقال کرتا ہے۔ پہلے وہ عالم ملک سے عالم ملکوت کی طرف منتقل ہوا تھا، مثلاً موتِ اختیاری کے ذریعے عالم ملک سے عالم ملکوت میں داخل ہوا تھا۔ اب اس حقیقت کے پیشِ نظر عالم ملکوت سے عالمِقیامتِ کبری انفسی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو ہم نے قیامت کی پانچ قسمیں بیان کی تھیں:
۱۔ قیامتِ صغری آفاقی۔
۲۔ قیامتِ صغری انفسی۔
۳۔ قیامتِ کبری آفاقی۔
۴۔ قیامتِ کبری انفسی۔
۵۔ وہ قیامت جو ہر لمحہ واقع ہو رہی ہے، جس کی طرف آیتِ کریمہ میں اشارہ ہے: ﴿ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ﴾ (رحمن: ۲۹)
    قیامت صغری آفاقی سے مراد وہ قیامت ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے:مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِيَامَتُهُ، جو شخص مر گیا، اس کی قیامت قائم ہو گئی۔ یہ قیامتِ صغری آفاقی ہے، جسے موتِ اضطراری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قیامتِ صغری انفسی بھی موت ہی ہے، لیکن اس سے مراد موتِ اختیاری ہے۔ اس کے بارے میں کہا گیا ہے:مُوتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا، مرنے سے پہلے مر جاؤ، تاکہ موت کے وقت جان کنی کی سختی نہ ہو۔ یہ موتِ اختیاری ہے، جسے قیامتِ صغرای انفسی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 
    قیامتِ کبری آفاقی وہ قیامت ہے جس میں سورج لپیٹ دیا جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے اور کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ سورج اپنی جگہ سے بکھر جائے گا اور سیاروں کا نظام بھی اس کے زیر ِانتظام نہیں رہے گا۔ سیارے اپنے مدار اور نظم سے نکل جائیں گے، کائنات کا نظام مختل ہو جائے گا اور سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ (تکویر: ۱) یہ قیامتِ کبرای آفاقی ہے۔
    قیامت کبری انفسی بھی اسی طرح ہے جیسے قیامتِ صغری انفسی، لیکن اس میں تبدیلی انسان کے باطن میں واقع ہوتی ہے۔ سورج اپنی جگہ محفوظ ہے، سیارے بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور کائنات کا ظاہری نظام برقرار ہے، لیکن انسان کے اندر ایک عظیم تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔ یہ موتِ اختیاری کی طرح ہے؛ انسان بظاہر زندہ ہے، لیکن اس کے اندر موتِ اختیاری واقع ہو چکی ہے۔ تمام چیزیں اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس شخص کے مشاہدے میں قیامت برپا ہو چکی ہے۔ وہ اسی وقت یہ حقیقت محسوس کرتا ہے:﴿ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ﴾ (غافر:۱۶) آج بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ واحد و قہار ہی کی ہے۔ یہی قیامتِ کبری انفسی ہے۔
    ہر لمحہ حقیقت وجود سے کوئی چیز ظہور کے مرتبے میں آتی ہے، پھر ہر لمحہ کوئی چیز اس کی طرف لوٹتی ہے اور اسی میں فانی ہو جاتی ہے۔ یہ ہر آن واقع ہونے والی قیامت ہے۔ جب اسلامِ اعظم، ایمانِ اعظم میں تبدیل ہو جاتا ہے تو سالک عالمِ ملک سے عالمِ ملکوت اور عالمِ ملکوت سے عالمِ جبروت میں داخل ہوتا ہے، اور اس پر قیامتِ کبرای انفسی قائم ہو جاتی ہے۔
و در این هنگام سالک از عالم ملکوت ارتحال و قیامت کبرای انفسیه بر او قیام می‌نماید و به عالم جبروت داخل می‌شود و از مشاهدات ملکوتیه و معاینات جبروتیه فائز می‌شود. یعنی وہ ان مشاہدات اور معاینات سے بہرہ مند ہوتا ہے اور ان کے فوز کو حاصل کرتا ہے۔
و از عالم نفوس متعلقه به افلاک به عالم منزه از اجسام داخل می‌شود. یعنی وہ اجسام کے عالم اور عالمِ ملکوت سے آگے بڑھ کر عالمِ جبروت میں داخل ہوتا ہے، جو اجسام سے منزہ ہے۔
 عالمِ الٰہ اور عالمِ جبروت
عبارت میں آیا ہے: جوار عالم اله در اصطلاح برخی... بعض لوگوں کی اصطلاح میں عالمِ الٰہ سے مراد فانی فی اللہ ہونا اور اسمائے حسنائے الٰہی تک رسائی حاصل کرنا ہے، جبکہ عالمِ ملکوت سے مراد عالمِ مجردات ہے۔
عبارتِ کتاب: اشعارِ فنائے انانیت 
و در طلب این منزلت گفته شده:
بَيْنِي وَبَيْنَكَ إِنِّيَّتِي
فَارْفَعْ بِلُطْفِكَ إِنِّيَّتِي
    اور اس منزلت کے طلب کرنے کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ میرے اور تیرے درمیان میری انانیت حائل ہے؛ پس اپنے لطف سے میری انانیت کو دور کر دے۔
یہ شعر جناب بایزید بسطامی کا ہے، حسین بن منصور حلاج کا نہیں۔ بایزید بسطامی کا ایک اور شعر بھی ہے:
بَيْنِي وَبَيْنَكَ إِنِّيَّتِي
فَارْفَعْ بِلُطْفِكَ إِنِّيَّتِي
اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تیرے درمیان میری انانیت، یعنی اپنی ذات کی طرف ہستی کی نسبت دینا، حائل ہے۔ یہی انانیت مزاحمت کرتی ہے اور میں اس سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اے خدا! اب جب کہ یہ انانیت میرے اور تیرے درمیان حائل ہے، تو اپنے لطف سے اسے دور کر دے۔ یہ «میں» میرے لیے رکاوٹ ہے؛ اسے درمیان سے ہٹا دے۔ اسی مضمون کو حافظ نے یوں بیان کیا ہے:
بیا و هستی حافظ ز پیش پا بردار
که با وجود تو کس نشنود ز من که منم
آؤ اور حافظ کی ہستی کو راستے سے ہٹا دو، کیونکہ تیرے وجود کے ہوتے ہوئے کوئی مجھ سے یہ نہیں سن سکتا کہ میں ہوں۔
    اس سے پہلے حافظ نے کہا تھا:
تو خود حجاب خودی حافظ از میان برخیز
خوشا کسی که در این راه بی‌حجاب رود
اے حافظ! تو خود اپنا حجاب ہے، درمیان سے اٹھ جا؛ خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس راستے میں بے حجاب ہو کر چلے۔
    اس شعر میں حافظ ابتدا میں خود اپنے آپ کو مخاطب کرتا ہے کہ درمیان سے اٹھ جا، لیکن وہ اپنی ذات سے ایسا نہیں کر سکتا۔ اسی لیے غزل کا دوسرا شعر اس کی مدد کے لیے آتا ہے:
بیا و هستی حافظ ز پیش پا بردار
که با وجود تو کس نشنود ز من که منم
اے خدا! تو خود حافظ کی ہستی کو راستے سے ہٹا دے، کیونکہ تیرے وجود کے ہوتے ہوئے میری طرف سے میں کی آواز بلند نہیں ہو سکتی۔


 
اشتراک گذاری:
نظرات

اطــلاعــات تــمــــاس:

دفـتـر و ساختـمان آموزشـی: قم، خیابان معلم ، بلوار جعفر طیار ، نبش کوچه چهارم 

کدپستی: 3715696797

 

آموزش حضوری و مجازی (ساعت13 تا 18):

کارشناس آموزش مجازی : 02537741377
ارتباطات و روابــط عمــومــی: 09906265794