ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی مستحب نماز
ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی مستحب نماز اگر کوئی حاجیوں کے ثواب میں شریک ہونا چاہتا ہے جو اس وقت مکہ میں حج کے اعمال انجام دے رہے ہیں،تو اسے چاہیے کہ وہ یہ نماز ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں ہر رات نماز مغرب اور عشا کے درمیان پڑھے: دو رکعت، ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور سورہ توحید کے بعد یہ سورہ اعراف: آیت 142 پڑھے اور پھر رکوع میں جائے:
« وَوَاعَدْنَا مُوسَی ثَلاثِينَ لَيْلَةً وَ أَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَ قَالَ مُوسَی لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَ أَصْلِحْ وَ لا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ »اور ہم نے موسیٰ سے تیس (٣٠) راتوں کا وعدہ کیا اور دس (دیگر) راتوں سے اسے پورا کیا، اس طرح ان کے رب کی مقررہ میعاد چالیس راتیں پوری ہو گئیں اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور اصلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کا راستہ اختیار نہ کرنا۔
تاریخ انتشار: 1405/02/28 تعداد بازدید: 42
علامه حسن زاده املی
آثار نماز علّامه حسن زاده آملی مدّظلّه:
نمازگزار با آفريدگارش گفتگو مى كند، و جسته جسته بدانجا مى رسد كه هميشه و همواره خودش را در پيشگاه او مى بيند، و هيچگاه خودش را فراموش نمى كند، و پيوسته كشيک خويش مى كشد تا درست گفتار و نيكو كردار و پاكيزه رفتار باشد
«هزار و یک کلمه» ج 2 ص 378
تاریخ انتشار: 1400/06/31 تعداد بازدید: 581



