منوی اصلی

برچسب / استاد رمضانی

سالک کے لیے معراجِ ترکیبی اور معراجِ تحلیلی
رساله سیر و سلوک بحر العلوم
سالک کے لیے معراجِ ترکیبی اور معراجِ تحلیلی

رســالـــــه سیــــر و ســـلــــــوک 

استاد: آیت اللہ حسن رمضانی

تدوین:سید محمد حسن رضوی 

 

انسان کا اس دنیا میں آنا دراصل مقامِ ربوبیت سے نزول ہے، تاکہ انسان كے لیے بلند اور اعلی  مقام پر عروج کرنے کے مقدمات فراہم ہو سکیں۔ یہ نزول دراصل ظلمتِ طبیعت سے نکلنے اور خارج ہونے کی لیے ہے۔ سورۂ قصص میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: إِنِّي آنَسْتُ ناراً لَعَلِّي آتيكُمْ مِنْها بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُون، میں نے (کوہِ طور کی جانب) ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے لیے کوئی خبر یا آگ کا کوئی شعلہ لے آؤں تاکہ تم حرارت حاصل کر سکو۔ (قصص: ۲۹) یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان عالمِ طبیعت میں سردی اور تاریکی کا شکار ہے جہاں اسے آگ کی ضرورت ہے۔ آیت کریمہ میں آگ نورِ ہدایت کی علامت ہے جو انسان کو ٹھنڈ اور سردی سے نجات دیتی ہے اور ظلمتوں و اندھیروں میں پھنسے ہوئے انسان کی ظلمت دور کر کے اسے حرارت دیتی ہے یعنی حضورِ حق تک پہنچاتی ہے۔


عروج کی دو قسمیں

انسان کا معراج یعنی عروج کی طرف جانے کو دو طرح سے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
  1. معراجِ ترکیب
  2. معراجِ تحلیل

۱۔ معراجِ ترکیب سے مراد

عرفاء کی نظر میں انسان عالمِ عقول سے عالمِ نفوس، عالم مثال اورعالم مادہ میں نزول کرتا ہے جہاں سے جماد، نبات اور حیوان کے مراحل طے کر کے یہ مرتبہِ انسانیت تک پہنچنتا ہے۔ جماد و نبات و حیوان کے مراحل کو طے کر کے مرتبہِ انسانیت تک پہنچنا معراجِ ترکیب کہلاتا ہے۔ اگرچہ یہ مراحل ظاہراً ایک نوع نزول و ہبوط ہیں لیکن حقیقت میں یہ نزول خود عروج کا مقدمہ اور مقامِ اعلی تک جانے کی راہ کا حصہ ہے۔ درج ذیل وجوہات کی بناء پر انسان کا مراحل طے کر کے انسانیت تک پہنچنا معراجِ ترکیب کہلاتا ہے:

  •  انسان کا نزول اس کے عروج کے لیے ضروری پیش خیمہ ہے۔

  • انسان کی روح دورانِ نزول ہر عالم سے خاص قسم کا اثر قبول کرتی ہے۔

  • تمام عوالم کے خاص اثر کے امتزاج سے آخرکار صورتِ انسان ظاہر ہوتی ہے اور دنیا میں موجود انسان ان تمام عوالم کے آثار کا مرکب مجموعہ بنتا ہے۔

دورانِ نزول عوالم

انسان جن عوالم سے گزرتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

  1. عالمِ عقول

  2. عالمِ نفوس

  3. عالمِ مثال

  4. عالمِ مادہ

معراجِ ترکیب کی مثال خلائی شیٹل بنانے کی سی ہے جس کی تشکیل کے لیے مختلف کانوں سے دھاتیں اور کارخانوں یعنی مختلف عوالم سے پرزے جمع کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں جوڑ کر ایک ایسا وسیلہ تیار کیا جاتا ہے جو زمین کی فضاء سے نکل کر آسمانِ یعنی لقاء اللہ تک پرواز کرتا ہے۔ خلائی شیٹل کی تیاری اگرچہ زمین پر ہوتی ہے لیکن زمین پر اس کے بننے کے مراحل طے کرنا درحقیقت اس کے فضائی سفر کا لازمی جزو ہے۔ انسان سمیت تمام موجوداتِ عالم اللہ سبحانہ کے خزانوں سے معین مقدار اور اندازہ کے مطابق دنیا میں نازل ہوتے ہیں تاکہ ان کا یہ نزول ان کے عروج کا مقدمہ بن سکے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے: ﴿ وَ إِنْ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلاَّ عِنْدَنا خَزائِنُهُ وَ مَا نُنَزِّلُهُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَعْلُوم‏ | کوئی ایسی چیز نہیں ہے مگر اس کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم اسے ایک معلوم مقدار میں نازل کرتے ہیں


انسان کی تخلیق کا مقصد

انسان کے دنیا میں آنے کا اصل مقصد عروج کے اسباب فراہم کرنا ہے، جیسے کوئی شخص چوڑی نہر کو عبور کرنے کے لیے وہیں کھڑے ہو کر چھلانگ نہیں لگا سکتا بلکہ پیچھے ہٹ کر دوڑ لگاتا ہے، اسی طرح انسان کا مقامِ ربوبی سے دنیا میں آنا بھی عروج کے لیے دورخیز ہے۔ پس دنیا میں آنا بذاتِ خود مقصد نہیں، بلکہ اڑان بھرنے کی تیاری ہے۔
اگر یہ نزول، معراجِ تحلیل کے ذریعے مکمل نہ ہو تو بے قیمت رہ جاتا ہے۔ معراجِ ترکیب وہ سفر ہے جو خزائنِ الٰہی سے شروع ہو کر دنیا تک آتا ہے، تاکہ انسان کو اختیاری طور پر حق کی طرف لوٹنے کا میدان مل سکے۔


۲۔ معراجِ تحلیل

معراجِ ترکیب کی تکمیل کے بعد معراجِ تحلیل شروع ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف واپسی کا سفر۔ معراجِ ترکیب میں انسان عالمِ الٰہی سے نزول کرتا ہے اور مادّی عناصر سے مرکب بنتا ہے۔ لیکن معراجِ تحلیل میں سالک تمام قیود، تعلقات اور وابستگیوں کو جو نزول کے دوران حاصل ہوئیں تھیں اپنے آپ سے جدا کرتا ہے۔


مقامِ تبتل

مادی وابستگیاں اور تعلقات کے منتقطع ہونے کو اصطلاح میں تبتُّل کہتے ہیں۔ یہ مقام، فنا اور ملاقاتِ خدا کی سیڑھی ہے۔ معراجِ تحلیل کے مختلف منازل اور مقامات ہیں جس کا آغاز تبتُّّل سے آغاز ہوتا ہے اور اعلیٰ ترین مقامِ فنا پر اختتام ہوتا ہے۔ معراجِ تحلیل کی حقیقی تکمیل موت کے ذریعے ہوتی ہے۔ البتہ یہاں موت سے مراد موتِ طبیعی نہیں ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ یہاں موت سے مراد موتِ اختیاری ہے۔


موتِ اختیاری

روایات میں آیا ہے: ﴿ مُوتُوا قَبْلَ‏ أَن تَمُوتُوا ؛ موت آنے سے پہلے تم مر جاؤ ﴾ (ملا صدرا، شرح اصول الکافی، ج۱، ص ۳۵۹) یہاں موت سے مراد موتِ طبیعی نہیں بلکہ موت اختیاری ہے جوکہ موتِ طبیعی سے پہلے اختیار کی جا سکتی ہے۔ یہ موت نفس کی ظلمت، گناہ اور دنیاوی وابستگیوں سے نکل کر نورِ الٰہی کے دائرے میں داخل ہونے سے عبارت ہے۔


معراجِ تحلیل اور قیامت — اسی دنیا میں

معراجِ تحلیل کے مطابق حقیقی معاد:

  • روح کا دوبارہ جسم میں آنا نہیں
    بلکہ

  • اسی دنیا میں حق کی طرف حقیقی رجوع ہے:

﴿ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں﴾

یہ تصور عام فہم عقیدے سے مختلف ہے جو قیامت کو صرف جسمانی واپسی سمجھتا ہے۔


معراجِ تحلیل اور لقاء اللہ — اسی دنیا میں

جو شخص معراجِ تحلیل کو درست طور پر طے کر لیتا ہے اور موتِ اختیاری حاصل کر لیتا ہے:

  • اسے طبیعی موت کا انتظار نہیں رہتا

  • اس کی قیامت اور لقاء اللہ اسی لمحے، اسی دنیا میں واقع ہو جاتی ہے


معراجِ تحلیل کا آخری ہدف: قشر سے عبور

اکثر انسان صرف بشر کی سطح پر رہ جاتے ہیں، یعنی انسانیت کے خول میں۔
لیکن حقیقی سالک:

  • اس خول سے آگے بڑھتا ہے

  • اور حقیقت کے مغز (لُبّ) تک پہنچتا ہے

ایسے شخص کو لَبیب کہا جاتا ہے —
جو حقیقت کے مغز تک پہنچ کر ہمیشہ کے وصالِ حق میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس مقام پر:

  • ہر سانس ایک عید ہے

  • ہر رات شبِ قدر

  • اور پوری زندگی وصال بن جاتی ہے

اگر سالک فنا کے بعد عنایتِ الٰہی سے لوگوں کی طرف لوٹے
تو یہ بقاء بعد الفناء کا مقام ہے،
اور وہ جانوں کی رہبری اور امامت کا اہل بن جاتا ہے۔


استمرارِ فیض اور عرفاء کی عید

عارف کے لیے خدا سے تعلق:

  • وقتی نہیں

  • بلکہ دائمی ہوتا ہے

ہر لمحہ فیضِ الٰہی نازل ہوتا ہے (تجدّدِ امثال)۔
عام لوگ سال میں دو عیدیں مناتے ہیں،
مگر عارف کے لیے ہر لمحہ عید ہے۔


رسالۂ سیر و سلوک (منسوب بہ سید بحرالعلوم)

یہ رسالہ سید بحرالعلومؒ کی طرف منسوب ہے۔
اگرچہ بعض نے نسبت پر شبہ کیا ہے،
لیکن سید علی قاضیؒ جیسے بزرگ اسے قطعی طور پر انہی کی تصنیف مانتے تھے۔


دستورات پر عمل کی شرط

استاد قاضیؒ کے مطابق:

  • اس کتاب پر عمل خودسرانہ نہیں ہونا چاہیے

  • بلکہ کسی شیخِ راہ کی اجازت اور نگرانی میں ہونا چاہیے

انسان عالمِ طبیعت میں کوئلے کی مانند ہے:
ٹھنڈا اور تاریک۔
جب تک وہ آگ کے قریب نہ ہو:

  • نہ گرم ہوتا ہے

  • نہ روشن

استاد یا ولیِ خدا اس آگ کی مانند ہے۔
اس کے بغیر کوئلہ کبھی آگ نہیں بنتا۔


استقامت کا کردار

اگر کوئلے کو کبھی آگ کے قریب اور کبھی دور کیا جائے تو وہ کبھی نہیں جلتا۔
اسی طرح عبادات میں:

  • اگر استقامت نہ ہو

  • تو وہ دل پر اثر نہیں کرتیں

سیر و سلوک ذرے بین کی مانند ہے:
اگر روشنی کو ایک نقطے پر مرکوز رکھا جائے تو آگ لگتی ہے،
ورنہ نہیں۔

انسان کا دل بھی:

  • توجہ

  • اور استقامت
    کے بغیر نورِ الٰہی سے مشتعل نہیں ہوتا۔

تاریخ انتشار: 1404/11/08      تعداد بازدید: 82
دوره مثنوی معنوی بخش شیطان شناسی
دوره مجازی شیطان شناسی
دوره مثنوی معنوی بخش شیطان شناسی

جهت اطلاعات بیشتر  از دوره روی ادامه مطلب کلیک کنید.

تاریخ انتشار: 1401/11/13      تعداد بازدید: 6452
دوره مجازی درس (اخلاق و عرفان)
سرفصل دوره کوتاه مدت
دوره مجازی درس (اخلاق و عرفان)

مشروح سرفصل های درس   برای آشنایی بیشتر معرفت جویان

  • نام استاد: استاد معظم رمضانی زید عزه)
  • زندگی نامه استاد : از اینجا مطالعه شود
  • کتاب تدریسی اوصاف الاشراف خواجه نصیرالدین طوسی
  • تعداد جلسه: 72 جلسه

جهت مشاهده سرفصلها روی گزینه ادامه مطلب کلیک کنید.

تاریخ انتشار: 1399/05/23      تعداد بازدید: 3996
غرور كاذب
علامه حسن زاده
غرور كاذب
تاریخ انتشار: 1399/04/19      تعداد بازدید: 570
ميان عاشق و معشوق هيچ حايل نيست
علامه حسن زاده
ميان عاشق و معشوق هيچ حايل نيست
تاریخ انتشار: 1399/04/19      تعداد بازدید: 588
شان دعاى عرفه
علامه حسن زاده
شان دعاى عرفه
تاریخ انتشار: 1399/04/19      تعداد بازدید: 519
از صحبت اغيار بگذر
علامه حسن زاده
از صحبت اغيار بگذر
تاریخ انتشار: 1399/04/18      تعداد بازدید: 565
سخنی با سالکان کوی دوست
علامه حسن زاده
سخنی با سالکان کوی دوست
تاریخ انتشار: 1399/04/18      تعداد بازدید: 566
وحدت و کثرت
علامه حسن زاده
وحدت و کثرت
تاریخ انتشار: 1399/04/18      تعداد بازدید: 512
كثرت عین ربط است
علامه حسن زاده
كثرت عین ربط است
تاریخ انتشار: 1399/04/18      تعداد بازدید: 539
مثال موج و دریا در وحدت وجود سخت سست است
علامه حسن زاده
مثال موج و دریا در وحدت وجود سخت سست است
تاریخ انتشار: 1399/04/18      تعداد بازدید: 1244
توحید در منظر عارف اسلامی
علامه حسن زاده
توحید در منظر عارف اسلامی
تاریخ انتشار: 1399/04/18      تعداد بازدید: 1073
اهل وحدت و مساله حلول
علامه حسن زاده
اهل وحدت و مساله حلول
تاریخ انتشار: 1399/04/17      تعداد بازدید: 552
هزار و یک نکته
علامه حسن زاده
هزار و یک نکته

بافتند يا يافتند؟

تاریخ انتشار: 1399/04/06      تعداد بازدید: 498
واردات قلبیه
علامه حسن زاده
واردات قلبیه
تاریخ انتشار: 1399/04/06      تعداد بازدید: 600
اخلاق نفسانى
علامه حسن زاده
اخلاق نفسانى

الله اكبر! اى پسر ابوطالب

تاریخ انتشار: 1399/04/06      تعداد بازدید: 491
تفاوت های فلسفه و عرفان
علامه حسن زاده
تفاوت های فلسفه و عرفان

آن کجا و این کجا!

تاریخ انتشار: 1399/04/06      تعداد بازدید: 677
دزد مرغابی
علامه حسن زاده
دزد مرغابی
تاریخ انتشار: 1399/04/06      تعداد بازدید: 512
بنده ای از بندگان محمد(ص)
علامه حسن زاده
بنده ای از بندگان محمد(ص)
تاریخ انتشار: 1399/04/06      تعداد بازدید: 531
اعمال
علامه حسن زاده
اعمال

هر کس زارع و مزرعه خودش است 

تاریخ انتشار: 1399/04/06      تعداد بازدید: 540
« قبلی  1  2  3  4 ...8 بعدی »
صفحه
157 نتیجه

اطــلاعــات تــمــــاس:

دفـتـر و ساختـمان آموزشـی: قم، خیابان معلم ، بلوار جعفر طیار ، نبش کوچه چهارم 

کدپستی: 3715696797

 

آموزش حضوری و مجازی (ساعت13 تا 18):

کارشناس آموزش مجازی : 02537741377
ارتباطات و روابــط عمــومــی: 09906265794